Mass layoffs begin at US intelligence agency, raising concerns over national security

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ملک کے اعلیٰ انٹیلی جنس ادارے آفس آف دی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس میں بڑے پیمانے پر ملازمین کی برطرفیوں کا عمل شروع کر دیا ہے، جس پر کانگریس کے ارکان اور سابق انٹیلی جنس حکام نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق قائم مقام ڈائریکٹر بل پلٹے کی نگرانی میں ممکنہ طور پر سینکڑوں ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے۔ پلٹے کی تقرری پہلے ہی متنازع قرار دی جا رہی تھی کیونکہ ان کا انٹیلی جنس شعبے میں کوئی عملی تجربہ نہیں ہے۔

رپورٹس کے مطابق نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر اور نیشنل کاؤنٹر انٹیلی جنس اینڈ سیکیورٹی سینٹر ان اداروں میں شامل ہیں جو اس فیصلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ این بی سی نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ صرف نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر سے تقریباً 400 ملازمین کو فارغ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹیوں کے سرکردہ ڈیموکریٹ ارکان مارک وارنر اور جم ہائمز نے بل پلٹے کو ایک مشترکہ خط ارسال کیا ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر برطرفیاں قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔

ارکان کانگریس کا کہنا ہے کہ او ڈی این آئی کو 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد مختلف اداروں کے درمیان انٹیلی جنس تعاون بہتر بنانے اور مستقبل کے حملوں کی روک تھام کے لیے قائم کیا گیا تھا، لہٰذا افرادی قوت میں نمایاں کمی ادارے کی بنیادی ذمہ داریوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

سابق انٹیلی جنس حکام نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عملے میں کمی کے نتیجے میں دہشت گردی کے منصوبوں کا بروقت سراغ لگانے اور انہیں ناکام بنانے کی امریکی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے او ڈی این آئی میں فوری اور ضروری تنظیم نو اور عملے میں کمی کی ہدایت دی ہے تاکہ ملازمین کو ان کے اصل اداروں میں واپس بھیجا جا سکے۔