New proposals in Oslo talks, but disagreements over US weapons and security guarantees for Ukraine

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی سفارتی کوششیں تیز ہوگئی ہیں اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بدھ کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔ اس سے قبل اوسلو میں یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو ایک امریکی اہلکار نے تعمیری قرار دیا۔ مذاکرات میں ناروے اور فن لینڈ کے رہنماؤں کے علاوہ یورپی اور نیٹو نمائندے بھی شریک تھے۔

امریکی اہلکار کے مطابق یوکرین نے مذاکرات میں نئی تجاویز پیش کیں اور فریقین نے روس کے ساتھ رابطوں کے لیے مربوط حکمت عملی پر بامعنی پیش رفت کی۔ بات چیت میں یوکرین کے لیے سکیورٹی ضمانتوں، جنگ کے بعد معاشی منصوبے اور یورپ کے وسیع تر سکیورٹی ڈھانچے پر غور کیا گیا۔ وٹکوف کا مقصد براہِ راست سہ فریقی اور وسیع تر کثیر ملکی مذاکرات کی راہ نکالنا بتایا گیا ہے۔

زیلنسکی اوسلو میں واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یوکرین کو شکایت رہی ہے کہ امریکا نے اہم فوجی امداد اور انٹیلی جنس تعاون محدود کیا، تاہم زیلنسکی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے رابطے کے بعد یوکرین کو روسی میزائل حملوں کی پیشگی وارننگ دوبارہ مل رہی ہے۔ انہوں نے پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز اور اسٹارلنک نظام پر بھی بات چیت کی تصدیق کی۔

زیلنسکی نے نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسی سکیورٹی ضمانتوں کا ذکر کیا، جس کے تحت ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ امریکی حکام نے تاہم یوکرین کی جنگی ضروریات اور امریکی ذخائر کے درمیان توازن کی اہمیت پر زور دیا۔ یورپی ممالک امریکی ہتھیار یوکرین کے لیے خریدنے کے پروگرام پیرل کے ذریعے امداد فراہم کر رہے ہیں، لیکن پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی تازہ کھیپ کی فراہمی پر سوالات برقرار ہیں۔

اسٹارلنک کے استعمال سے متعلق بھی اختلاف سامنے آیا ہے۔ امریکی حکام نے کہا کہ واشنگٹن نے یوکرین کی رسائی پر پابندی نہیں لگائی، جبکہ اس نظام کی مالک کمپنی اسپیس ایکس کی شرائط اور سروس کے استعمال پر بحث جاری ہے۔

ادھر روسی حملے یوکرین کے شہروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کر رہے ہیں۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق یوکرین کی بندرگاہ رینی میں تین اور اوڈیسا کی طرف جانے والے دو مال بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سات علاقوں میں توانائی تنصیبات پر حملوں کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی، جبکہ کیف اور مغربی علاقے لیویو میں بھی حملوں کی اطلاعات ملیں۔

ٹرمپ نے روسی ڈیزل پر پابندیوں میں رعایت اور مزید پابندیوں سے متعلق چھوٹ کے اقدامات کیے، جن پر امریکی کانگریس میں تنقید ہوئی۔ اس کے باوجود امن معاہدے کی حتمی شرائط طے نہیں ہوئیں اور جنگ کے خاتمے کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔