Trump is the warlord of chaos, the whole world is now paying the price for his wars

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی صحافی اور تجزیہ کار نیسرین ملک  دی گارڈئین میں شائع ہونے والے اپنے تجزیاتی کالم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ اور عسکری پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اب صرف دو ممالک کا تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت، توانائی، تجارت اور عام شہریوں کی زندگیوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ایک غیر متوقع اور جذباتی طرزِ حکمرانی کے فیصلوں کی قیمت عالمی سطح پر ادا کی جا رہی ہے۔

نیسرین ملک اپنے تجزیے میں یاد دلاتی ہیں کہ صرف ایک ماہ قبل امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جس کے تحت جنگ کے خاتمے اور مستقل امن کے لیے 60 روزہ مذاکراتی عمل پر اتفاق کیا گیا تھا۔ تاہم اس مختصر عرصے میں حالات کئی بار یکسر بدل چکے ہیں۔ جنگ بندی کی امیدیں، نئے حملے، جوابی کارروائیاں، سفارتی بیانات اور فوجی دھمکیاں اس تنازع کو ایک ایسے مرحلے میں لے آئی ہیں جہاں جنگ گویا معمول کی حقیقت بنتی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق موجودہ صورتحال یہ ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فضائی کارروائیاں مزید وسعت دے دی ہیں، جبکہ ایران خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔ دوسری جانب یمن کے حوثی بھی بحیرہ احمر میں اپنی بحری ناکہ بندی کا اعلان کر چکے ہیں، جس کے بعد جنگ صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی تجارت کے دو اہم بحری راستے اس بحران کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔

نیسرین ملک لکھتی ہیں کہ ایران اب آبنائے ہرمز کو اپنی سب سے بڑی سفارتی اور عسکری طاقت کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جبکہ امریکا ایک مشکل صورتحال میں پھنس چکا ہے۔ اگر وہ جنگ ختم کرتا ہے تو اسے اپنے اہداف سے دستبردار ہونا پڑے گا، اور اگر مزید فوجی کارروائی کرتا ہے تو اسے طویل اور مہنگی زمینی جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مصنفہ کے مطابق امریکی فوج کے کم از کم 18 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ بعض امریکی حلقوں نے پینٹاگون پر ہلاکتوں اور نقصانات کی حقیقی تصویر سامنے نہ لانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

جنگ کے معاشی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے نیسرین ملک لکھتی ہیں کہ امریکا اب تک اس تنازع پر تقریباً 40 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے جبکہ پینٹاگون مزید 67 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وائٹ ہاؤس نے تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی منظوری بھی طلب کی ہے، جس کے باعث صحت، تعلیم، سماجی بہبود اور دیگر عوامی شعبوں کے لیے مالی وسائل مزید محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

تجزیے کے مطابق اس جنگ کا سب سے نمایاں اثر عالمی توانائی کی منڈی پر پڑا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ جنگ کے آغاز کے بعد اس کی قیمت میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ امریکا میں پٹرول 37 فیصد اور ڈیزل 40 فیصد مہنگا ہو چکا ہے، جبکہ برطانیہ میں صرف ایک ماہ کے دوران گیس کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں مہنگائی، حکومتی اخراجات اور عوامی مشکلات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

نیسرین ملک کے مطابق آئرلینڈ، کینیا اور دیگر کئی ممالک میں مہنگے ایندھن کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد حکومتیں عوام کو مزید ریلیف دینے کی مالی گنجائش کھوتی جا رہی ہیں۔

وہ ٹرمپ انتظامیہ کی نئی تجارتی پالیسی پر بھی سوال اٹھاتی ہیں۔ ان کے مطابق عالمی ٹیرف کی مدت ختم ہوتے ہی امریکا نے جبری مشقت کے نام پر درجنوں ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیے، حالانکہ اس فیصلے کو کئی ممالک نے سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

نیسرین ملک اپنے تجزیے کے اختتام پر لکھتی ہیں کہ ایران جنگ اب وقتی بحران نہیں رہی بلکہ ایک نئی عالمی حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ ان کے بقول مسلسل جنگ، بڑھتی مہنگائی، توانائی کا بحران اور غیر یقینی سیاسی ماحول اس بات کی علامت ہیں کہ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ایک طاقتور ملک کے سیاسی فیصلوں کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے۔ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی سیاست، معیشت اور عام شہریوں کی زندگیوں پر مزید گہرے ہوتے جائیں گے۔