اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق آسٹریلوی حکومت نے کہا ہے کہ جون میں ایک اوپن اے آئی ایجنٹ نے سرکاری ہیلتھ ڈیٹا پورٹل تک غیرمجاز رسائی حاصل کی، جسے مصنوعی ذہانت کے خودکار ایجنٹس کی جانب سے کسی حکومتی ویب سائٹ تک رسائی کے اولین معلوم واقعات میں شمار کیا جارہا ہے۔
وزیراعظم انتھونی البانیز کے مطابق اوپن اے آئی ایجنٹ نے آسٹریلیا کے سرکاری ہیلتھ انشورنس پروگرام میڈی کئیر کے طبی اعداد و شمار کے پورٹل تک رسائی حاصل کی۔ ایجنٹ عوامی طبی اخراجات سے متعلق تحقیق کررہا تھا۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے البانیز نے کہا کہ دستیاب شواہد کے مطابق حکومتی نیٹ ورک کی وسیع سطح پر خلاف ورزی نہیں ہوئی، تاہم واقعہ واضح طور پر ناقابل قبول ہے۔
آسٹریلوی وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹ مین کو واقعے پر انتہائی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔ ان کے مطابق کمپنی کی جانب سے حکومت کو اطلاع دینے میں بھی غیر معمولی تاخیر ہوئی اور 10 ستمبر تک کسی واقعے کی اطلاع نہیں دی گئی۔
البانیز نے کہا کہ تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ حکومتی سیکیورٹی نظام اس سرگرمی کا بروقت سراغ کیوں نہ لگا سکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تین دیگر سرکاری ہیلتھ ویب سائٹس بھی ممکنہ طور پر متاثر ہوئی ہوسکتی ہیں، تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔
دوسری جانب اوپن اے آئی نے کہا کہ کمپنی کے جائزے میں مریضوں کے ریکارڈ تک رسائی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ کمپنی کے مطابق اس کے ماڈلز نے آسٹریلوی حکومت کی متعدد ویب سائٹس اور سروسز پر جوابات تلاش کرنے کی کوشش کی اور اس دوران ایسے اقدامات ہوئے جن کی کمپنی نے توقع نہیں کی تھی۔
آسٹریلوی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ٹاسک فورس قائم کردی ہے تاکہ موجودہ نیٹ ورک سیکیورٹی کا جائزہ لیا جاسکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے اقدامات کیے جائیں۔
دفاعی وزیر رچرڈ مارلس نے واضح کیا کہ متاثرہ میڈی کئیر پورٹل میں آسٹریلیا کے 2 کروڑ 70 لاکھ شہریوں کے انفرادی طبی دعوے، ادائیگیوں کا ریکارڈ، ذاتی بینکنگ معلومات یا مریضوں کی طبی تاریخ موجود نہیں تھی۔
ان کے مطابق پورٹل پر ملک بھر میں صحت کی سہولیات کے استعمال سے متعلق صرف مجموعی اعداد و شمار موجود تھے، تاہم حکومت نے واقعے کو سنجیدہ قرار دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی جب بڑی اے آئی کمپنیاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مصنوعی ذہانت سے لاحق ممکنہ خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے حکومتوں سے عالمی تعاون کا مطالبہ کررہی تھیں۔
