Plan to modernize refineries enters implementation phase; Pakistan expects annual savings of $1.5 billion.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق پاکستان کی آئل ریفائنریز نے حکومتی نامزد ادارے انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز کے ساتھ پلانٹ اپ گریڈیشن کے معاہدوں پر دستخط کردیئے، جس کے بعد آئندہ پانچ برس میں ریفائننگ سیکٹر میں تقریباً 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

صنعتی حکام کے مطابق اٹک ریفائنری، نیشنل ریفائنری، پاکستان ریفائنری اور سنرجیکو پاکستان نے جمعرات کو معاہدوں پر دستخط کیے، جبکہ پاک عرب ریفائنری کے بھی جلد معاہدے میں شامل ہونے کی توقع ہے۔

حکومت، بالخصوص وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، نے نئی ریفائنری پالیسی پر عملدرآمد کی راہ میں موجود رکاوٹیں دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

سنرجیکو پاکستان کے چیف ایگزیکٹو امیر عباس چی نے معاہدے کو ریفائننگ شعبے کے لیے اہم اور طویل انتظار کے بعد حاصل ہونے والا سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے۔

ان کے مطابق منصوبہ پاکستان کی ریفائننگ انفرااسٹرکچر کو جدید بنانے، مقامی پیٹرولیم مصنوعات کا معیار بہتر کرنے، درآمدی ریفائنڈ ایندھن پر انحصار کم کرنے اور طویل مدتی توانائی تحفظ مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

سنرجیکو پاکستان نے اپ گریڈیشن منصوبے کو تین مراحل میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں یورو-وی معیار کے مطابق ایندھن کی پیداوار، دوسرے میں فرنس آئل کی پیداوار کم کرنے اور تیسرے مرحلے میں ریفائنری کی پیداواری صلاحیت بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔

اٹک ریفائنری کے چیف ایگزیکٹو عادل خٹک نے کہا کہ چار ریفائنریز کے معاہدوں اور بعد میں پارکو کی شمولیت سے تقریباً 6 ارب ڈالر کا سرمایہ کاری پروگرام عملی شکل اختیار کررہا ہے۔

انہوں نے اسے پاکستان کی ریفائننگ صنعت کی جدید کاری، صاف تر یورو-وی ایندھن کی پیداوار، فرنس آئل میں کمی اور درآمدی پیٹرولیم مصنوعات کی جگہ مقامی پیداوار بڑھانے کی جانب اہم قدم قرار دیا۔

عادل خٹک کے مطابق ریفائنری پالیسی کا پہلا مسودہ دسمبر 2019 میں تیار ہوا، اگست 2023 میں اسے منظوری ملی اور بعد میں ترامیم کی گئیں۔ تقریباً سات سال بعد پالیسی اب عملی مرحلے میں داخل ہوئی ہے۔

صنعتی اندازوں کے مطابق ریفائنری اپ گریڈیشن سے پاکستان کو سالانہ تقریباً 1.5 ارب ڈالر زرمبادلہ بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔ حالیہ عالمی حالات نے بھی مقامی ریفائننگ صلاحیت کو توانائی تحفظ کے لیے اہم قرار دینے کی بحث کو مزید تقویت دی ہے۔

تاہم عادل خٹک نے واضح کیا کہ معاہدوں پر دستخط اختتام نہیں بلکہ اگلے مرحلے کا آغاز ہیں، جس میں پانچوں ریفائنریز کو پانچ سال کے اندر فنانسنگ، انجینئرنگ، خریداری، تعمیر اور منصوبوں کی تکمیل یقینی بنانا ہوگی۔