Trump announces talks with Iran, no deadline for agreement, Israel maintains hint of military action

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیونکی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ اہم مذاکرات پیر کے روز ہوں گے، تاہم انہوں نے کسی ممکنہ معاہدے کے لیے کوئی حتمی ڈیڈ لائن دینے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جنگ کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ مزید خونریزی کسی کے مفاد میں نہیں۔

ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ ایران اور مشرق وسطیٰ کے بعض دیگر ممالک نے معاہدہ مکمل کرنے کے لیے مزید وقت مانگا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز فوری طور پر دوبارہ کھل سکتی ہے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازع بھی حل ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ تہران کو جلد از جلد معاہدہ کرنا ہوگا۔

اتوار کو نیو جرسی سے واشنگٹن واپسی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے تصدیق کی کہ مذاکرات پیر کی دوپہر شروع ہوں گے، تاہم انہوں نے مقام یا شریک وفود کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ڈیڈ لائن سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ معاہدہ چاہتے ہیں کیونکہ جنگ میں بے شمار جانیں ضائع ہوتی ہیں۔

امریکی صدر گزشتہ کئی ماہ سے ایران پر دباؤ بڑھانے اور پھر مذاکرات کے لیے مزید وقت دینے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں، تاہم اب تک دونوں ممالک کے درمیان کوئی جامع معاہدہ طے نہیں ہو سکا۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل محدود کیے جانے کے باعث عالمی سطح پر تیل اور ایل این جی کی ترسیل متاثر ہوئی، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم پیر کے روز ابتدائی ٹریڈنگ میں خام تیل کی قیمتیں چار فیصد سے زائد گر گئیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں خطے کی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تہران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یہ مذاکرات صرف بحری راستے کے انتظامی امور سے متعلق ہیں اور آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند رکھنے کے فیصلے سے ان کا براہ راست تعلق نہیں۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیر توانائی ایلی کوہن نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان مکمل سکیورٹی تعاون جاری ہے، تاہم اگر ایران نے اپنے جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام کو دوبارہ آگے بڑھانے کی کوشش کی تو اسرائیل فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

ادھر برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر کے نزدیک دھماکے کی اطلاع دی ہے۔ ادارے کے مطابق جہاز اور اس کا عملہ محفوظ ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم علاقے سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو غیر معمولی احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔