Operations from South Waziristan to Gwadar 11 terrorists killed, large cache of weapons recovered.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی خبر  کے مطابق سکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی الگ الگ کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک کردیئے گئے جبکہ بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پہلی کارروائی خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی، جہاں سکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

کارروائی کے دوران 5 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ ان کے ٹھکانوں کو بھی تباہ کردیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔

دوسری کارروائی بلوچستان کے گورندر-ماشکیل کے علاقے میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت کی گئی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق علاقے میں موجود دہشت گردوں نے ایک چیک پوسٹ پر فائرنگ کی اور حملے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کی۔

سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے فرار ہونے والے 6 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

سکیورٹی ذرائع نے ہلاک افراد کو فتنہ الہندوستان سے وابستہ قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ عناصر بھارت کی سرپرستی میں سرگرم تھے۔

پاکستان میں خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 2021 کے بعد سرحد پار دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ ستمبر 2026 میں ملک میں عسکریت پسندوں کے حملوں کی ماہانہ تعداد 12 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق ستمبر میں ملک بھر میں 225 عسکری حملے ریکارڈ ہوئے، جبکہ اگست میں یہ تعداد 199 تھی۔ یوں ایک ماہ میں حملوں میں تقریباً 13 فیصد اضافہ ہوا۔

اعداد و شمار کے مطابق عسکریت پسندوں کے حملوں میں مسلسل تیسرے ماہ اضافہ ہوا ہے۔

اسلام آباد متعدد مرتبہ کابل سے مطالبہ کرچکا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کیلئے استعمال ہونے سے روکا جائے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان حکام مطلوبہ مؤثر کارروائی نہیں کررہے، تاہم کابل اس مؤقف سے اختلاف کرتا ہے۔