اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا ہنگامی اجلاس اگلے ہفتے ریاض میں بلانے پر اتفاق کیا ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب کو درپیش زمینی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا، خصوصاً شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حالیہ حملوں اور مدینہ منورہ کے بجلی مرکز پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور ہوگا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
24 ستمبر کو تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے نیویارک میں ملاقات کی تھی، جس کے بعد تینوں ملکوں کے عسکری سربراہان کا اجلاس 25 ستمبر کو ریاض میں ہوا۔ اس میں انٹیلی جنس شیئرنگ، فوجی رابطہ کاری اور دفاعی صلاحیتوں کے باہمی انضمام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مدینہ بجلی اسٹیشن پر حملے کی ذمہ داری سعودی عرب نے حوثیوں پر عائد کی ہے، تاہم حوثی گروپ اس الزام کی تردید کرچکا ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی اس معاملے پر بات کی۔ ان کے مطابق عراقچی نے حوثیوں اور عراقی مسلح گروہوں کو فوجی کارروائی کے بجائے سیاسی طور پر مذاکرات میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔
ڈار کے مطابق یہ کوئی باضابطہ ایرانی پیشکش نہیں بلکہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان تبادلہ خیال تھا، جس پر ایس پی ڈی سی اجلاس میں غور کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کیلئے چھ سے زائد ممالک نے دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم نئے ارکان کی شمولیت پر فیصلہ اس وقت ہوگا جب معاہدے کا مستقل ادارہ جاتی ڈھانچہ مکمل ہوجائے۔
معاہدے کے تحت سعودی عرب میں مستقل سیکریٹریٹ قائم کیا جارہا ہے، جس کے پہلے سیکریٹری جنرل ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود مقرر کیے گئے ہیں۔
ڈار نے کہا کہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں۔
انہوں نے امریکی ایران مذاکرات، کشمیر، افغانستان، غزہ اور توانائی بحران پر بھی گفتگو کی۔ ان کے مطابق پاکستان نے امریکا اور ایران کو 47 سال بعد ایک میز پر لانے میں کردار ادا کیا، مذاکرات کے 6 سیشنز میں 21 گھنٹے کی نشستیں ہوئیں اور 18 جون کو ایک معاہدے پر دستخط ہوئے۔
ڈار نے کہا کہ ہرمز اور باب المندب کی صورتحال سے سپلائی چین اور پاکستان میں قیمتوں پر دباؤ بڑھا، جبکہ حکومت کے ایندھن ریلیف پروگرام سے لاکھوں افراد مستفید ہورہے ہیں۔
