Ukraine accuses the US of aiding Russia; claims Starlink restrictions have hampered its defense.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ یوکرین نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ روسی میزائل حملوں سے پہلے پیشگی اطلاع نہ دینے اور میدان جنگ میں استعمال ہونے والے اسٹارلنک نظام کی کارکردگی محدود کرنے سے واشنگٹن بالواسطہ طور پر ماسکو کی مدد کر رہا ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق ان اقدامات سے روسی حملوں کو روکنے اور ملک کے دفاعی نظام کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔

صدر وولودیمیر زیلنسکی نے منگل کی رات اور بدھ کو ہونے والے شدید روسی حملوں کے بارے میں پیشگی اطلاع نہ ملنے کو مکمل طور پر ناانصافی قرار دیا۔ انہوں نے روس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ مبینہ توانائی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

کیف میں ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی کہ امریکا نے حالیہ دنوں میں روسی میزائلوں کے ممکنہ حملوں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنا روکنے کی دھمکی دی تھی۔ یوکرین ان معلومات کو حملوں کی پیشگی نشاندہی اور انہیں ناکام بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ تاہم، ٹرمپ نے منگل کو اس بات کی تردید کی تھی کہ انہوں نے ایسی دھمکی دی ہے۔

یوکرینی حکام نے اسٹارلنک انٹرنیٹ ٹرمینلز کی رفتار میں کمی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ یہ نظام یوکرینی فوج کو رابطے برقرار رکھنے، روس کے زیر قبضہ علاقوں میں کارروائیاں کرنے اور انٹرسیپٹر ڈرونز چلانے میں مدد دیتا ہے۔

زیلنسکی کے مشیر سرگی بیسکریستنوف نے کہا کہ روسی حملوں اور اسٹارلنک پر پابندیوں کا ایک ساتھ سامنے آنا محض اتفاق نہیں۔ ان کے مطابق یہ نیٹ ورک جیٹ انجن سے چلنے والے روسی حملہ آور ڈرونز کے خلاف دفاع کے مؤثر ذرائع میں شامل ہے، جن کی رفتار 600 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ اتحادیوں کے اقدامات یوکرین سے ان محدود مواقع میں سے ایک چھین رہے ہیں جن کے ذریعے وہ ایسے ڈرونز کے خلاف دفاع کر سکتا ہے۔

یوکرینی دفاعی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے پیشگی اطلاع کے بغیر اسٹارشیلڈ ٹرمینلز کے استعمال کو یک طرفہ طور پر محدود کیا، جس سے ڈرونز کے رابطے متاثر ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق مسک یا اسپیس ایکس کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔