اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ سربیا کے شہر نووی ساد میں ریلوے اسٹیشن کی چھت گرنے کے المناک حادثے کی دوسری برسی کے موقع پر ہزاروں افراد نے جمع ہو کر 16 ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
دو سال قبل پیش آنے والے اس حادثے نے ملک میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف احتجاجی تحریک کو جنم دیا تھا، جس کے نتیجے میں حال ہی میں برسراقتدار دائیں بازو کی جماعت کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔
یہ حادثہ نومبر 2024 میں نووی ساد کے ریلوے اسٹیشن کی تزئین و آرائش کے بعد پیش آیا تھا، جب عمارت کا کنکریٹ سے بنا بیرونی سائبان اچانک گر گیا۔ اس واقعے میں 16 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں چھ اور دس سال کی دو بہنیں بھی شامل تھیں۔
اسٹیشن کی تعمیر و مرمت پر کئی ملین یورو خرچ کیے گئے تھے، جس کے بعد منصوبے کے معیار اور ذمہ داروں سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔
اتوار کو ہونے والی یادگاری تقریب میں شہریوں نے متاثرین کے ناموں والے بینرز اٹھائے، پھول رکھے اور شمعیں روشن کیں۔ حادثے کے وقت، صبح 11 بج کر 52 منٹ پر، شرکا نے 16 منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ ہر منٹ ایک ہلاک ہونے والے شخص کی یاد کے نام کیا گیا۔
حادثے میں اپنے 27 سالہ بیٹے اسٹیفن کو کھونے والی ڈیجانا ہرکا بھی اجتماع میں شریک ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام پر واپس آنا ان کے لیے انتہائی مشکل ہے اور ہر مرتبہ یہ تکلیف پہلے سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ اپنے بیٹے کے نام والے دل کی شکل کے بینر کے سامنے وہ آبدیدہ ہوگئیں۔
تقریب میں شریک 50 سالہ ڈینیجیلا نے کہا کہ اس موقع پر جذبات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، کیونکہ یہاں مثبت اور منفی دونوں طرح کے احساسات موجود ہیں۔
حادثے کے بعد شروع ہونے والے مظاہرے سربیا میں صدر الیگزینڈر ووچچ کی حکومت کے خلاف ایک بڑی عوامی تحریک میں تبدیل ہوگئے۔ یہ احتجاج سابق صدر سلوبودان میلوسووچ کے 2000 میں اقتدار سے ہٹنے کے بعد ملک کے بڑے ترین احتجاجی مظاہروں میں شمار کیے گئے۔
گزشتہ ہفتے حکمران جماعت کو اقتدار سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے اس سانحے کے سیاسی اثرات ایک بار پھر نمایاں ہوگئے۔
