Two Houthi ballistic missiles fired at Saudi Arabia, explosions heard in several areas including Riyadh

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دارالحکومت ریاض کی جانب داغے گئے حوثی باغیوں کے دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

 حملے کے بعد ریاض، الخرج اور نجران سمیت مختلف علاقوں میں ہنگامی الرٹ جاری کیا گیا، جبکہ شہریوں نے کم از کم آٹھ دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔

اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق سعودی فضائی دفاعی نظام نے دونوں میزائلوں کو روک کر تباہ کردیا۔ بعد ازاں متعلقہ علاقوں میں خطرے کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ متاثرہ مقامات پر جمع ہونے یا حملوں کی ویڈیوز بنانے سے گریز کریں۔

دوسری جانب حوثی حکام نے دعویٰ کیا کہ مغربی یمن کے علاقے المقابنہ کے علاقے البرح میں سعودی حملوں کے نتیجے میں رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے 12 افراد ہلاک اور تین شدید زخمی ہوئے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگست سے اب تک یمن میں تشدد کے واقعات کے نتیجے میں 1,677 افراد ہلاک اور 7,395 زخمی ہوچکے ہیں۔ صرف 20 سے 25 اکتوبر کے دوران 559 افراد ہلاک یا زخمی ہوئے، یعنی روزانہ اوسطاً تقریباً 93 افراد متاثر ہوئے۔

 جھڑپیں تعز، لحج اور مأرب میں جاری ہیں، جبکہ عدن، الضالع اور شبوا میں نسبتاً کم جانی نقصان رپورٹ ہوا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے 46 ٹراما اور 10 ایمرجنسی کٹس سمیت تقریباً 30 میٹرک ٹن طبی سامان تین اسپتالوں اور ایک طبی مرکز کو فراہم کیا ہے۔

 تاہم مأرب میں 31 موبائل طبی ٹیموں میں سے صرف چھ فعال ہیں۔ 20 اکتوبر کو الثورہ جنرل اسپتال بھی حملے کی زد میں آیا، جس میں تین فوجی اور ایک مریض زخمی ہوئے۔

طبی سہولیات کی بندش، ادویات، ایندھن اور صاف پانی کی کمی کے باعث بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی بڑھ رہا ہے۔ تعز کے جنوب میں الاقروڑ، المسراخ اور الرہن کے علاقوں میں جھڑپیں دوبارہ شروع ہوچکی ہیں۔

ادھر عدن ایئرپورٹ پر میزائل حملے کے بعد پروازیں بحال کردی گئی ہیں۔ میزائل بدھ کو ایئرپورٹ کے قریب النصر کیمپ میں گرا تھا۔ سعودی اتحاد نے جمعرات کو مشرقی صوبے اور اس سے ایک روز قبل طائف کی جانب آنے والا حوثی میزائل بھی روکنے کا دعویٰ کیا تھا۔

 منگل کو ریاض میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک عمارت، زیر تعمیر منصوبے اور گاڑی کو نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔