Trump's big move despite Supreme Court ruling, new orders issued to restrict birthright citizenship

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی سابقہ کوشش مسترد کیے جانے کے باوجود امریکا میں پیدائشی شہریت کے دائرہ کار کو محدود کرنے کے لیے دو نئے ایگزیکٹو آرڈرز جاری کر دیے ہیں۔

نئے احکامات کا بنیادی ہدف برتھ ٹورزم ہے، جس میں غیرملکی خواتین بچے کی پیدائش کے مقصد سے امریکا کا سفر کرتی ہیں تاکہ ان کے بچوں کو امریکی شہریت مل سکے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ موجودہ نظام کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں دونوں احکامات پر دستخط کیے۔ وائٹ ہاؤس کے معاون اسٹیفن ملر نے تقریب میں کہا کہ ’برتھ ٹورزم پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یہ اقدام 30 جون کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے تقریباً پانچ ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔ عدالت نے ٹرمپ کے سابقہ ایگزیکٹو آرڈر کو آئینی طور پر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ اس حکم کے تحت ان بچوں کو امریکی شہریت تسلیم نہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی جن کے والدین میں سے کوئی بھی امریکی شہری یا قانونی مستقل رہائشی، یعنی گرین کارڈ ہولڈر، نہ ہو۔

ٹرمپ کے نئے احکامات نسبتاً محدود دائرہ کار رکھتے ہیں اور انتظامیہ نے ان میں پیدائشی شہریت کی تاریخی اور محدود استثناؤں کی نئی تشریح کرنے کی کوشش کی ہے۔

اگر کانگریس امریکی علاقوں میں خودکار پیدائشی شہریت ختم کرنے سے متعلق مجوزہ قانون منظور کرتی ہے تو ان احکامات کے اثرات امریکی علاقوں میں پیدا ہونے والے بچوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے 30 جون کے 6-3 سپریم کورٹ فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے بہت بدقسمت فیصلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ برث ٹورزم کی بنیاد پر کاروبار قائم کر رہے ہیں اور بچے پیدا کرنے کے ذریعے امریکا میں داخلے کا راستہ تلاش کیا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں چیف جسٹس جان رابرٹس نے واضح کیا تھا کہ 14ویں ترمیم کے تحت امریکا میں پیدا ہونے والے آزاد افراد کو شہریت کا حق دیا گیا ہے۔

ٹرمپ کے نئے احکامات کو قانونی ماہرین اور تارکین وطن کے حقوق کی تنظیموں کی جانب سے عدالت میں چیلنج کیے جانے کا امکان ہے۔