The final moment of a 22-year space journey, NASA's Swift telescope is ready to burn up in Earth's atmosphere.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ ناسا کی خلائی دوربین نیل گیئرلز سوئفٹ آبزرویٹری تقریباً 22 سال تک کائنات کے رازوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد بدھ کو زمین کی فضا میں دوبارہ داخل ہو کر جلنے والی ہے۔

 یہ دوربین 2004 میں خلا میں بھیجی گئی تھی اور اس کا ابتدائی مشن صرف دو سال کے لیے مقرر کیا گیا تھا، تاہم اس نے اپنی متوقع مدت سے کہیں زیادہ عرصے تک سائنسی تحقیق جاری رکھی۔

تقریباً 3,200 پاؤنڈ، یعنی 1,452 کلوگرام وزنی سیٹلائٹ زمین کے گرد مدار سے نکل کر فضا میں داخل ہوگا۔ ناسا کے مطابق اس کے بیشتر حصے فضا میں جل کر ختم ہو جائیں گے، جبکہ ممکنہ طور پر بچ جانے والے ٹکڑوں سے آبادی والے علاقوں کو خطرہ لاحق ہونے کا امکان کم ہے۔

ناسا نے امریکی اسپیس فورس کے تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زمین پر کسی شخص کو نقصان پہنچنے کا امکان 2,100 میں سے ایک ہے۔ ادارے نے ابتدا میں امریکی مشرقی وقت کے مطابق صبح 3 بج کر 30 منٹ پر دوبارہ داخلے کا امکان ظاہر کیا تھا۔

 ایرو اسپیس کارپوریشن نے صبح 5 بج کر 19 منٹ کا وقت بتایا، جس میں دو گھنٹے آگے یا پیچھے ہونے کا امکان تھا۔ برطانوی ماہرِ فلکیات جوناتھن میک ڈوول نے نظرثانی شدہ امریکی اسپیس فورس ڈیٹا کی بنیاد پر صبح تقریباً 7 بج کر 45 منٹ کا امکان ظاہر کیا۔

میک ڈوول کے مطابق سیٹلائٹ تقریباً 17 ہزار میل فی گھنٹہ، یعنی 27 ہزار 359 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کے گرد گردش کر رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دوربین کا مدار فضا کی بالائی تہہ کے قریب تھا اور اصل سوال یہ تھا کہ وہ کس مقام پر اتنی گرم ہوگی کہ اس کے حصے ٹوٹنا شروع ہو جائیں۔

تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی سوئفٹ دوربین اپنی تین دوربینوں کے ذریعے گاما شعاعوں کے دھماکوں اور دیگر کائناتی مظاہر کا مطالعہ کرتی رہی۔ اس نے دور دراز کہکشاؤں کے مرکز میں موجود بڑے بلیک ہولز، ایکس رے خارج کرنے والے ستاروں، دمدار ستاروں اور شہابی اجسام کا بھی مشاہدہ کیا۔

ناسا اور ایریزونا کی کمپنی کٹالسٹ نے جولائی میں دوربین کو زیادہ پائیدار مدار میں پہنچانے کے لیے خصوصی خلائی جہاز لنک روانہ کیا تھا۔

 اس کا مقصد سوئفٹ کے ساتھ جڑ کر اسے بلند مدار میں منتقل کرنا تھا، لیکن خلا میں پہنچنے کے فوراً بعد لنک بے قابو ہو کر گھومنے لگا۔ اگست کے وسط میں مشن ختم کر دیا گیا۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلا امریکی ریسکیو تجربہ تھا، جسے مستقبل میں سیٹلائٹس کی مرمت اور امریکا چین خلائی مقابلے کے تناظر میں اہم ٹیکنالوجی کا امتحان سمجھا جا رہا تھا۔ کٹالسٹ نے 30 ملین ڈالر کے ناسا معاہدے کے تحت صرف نو ماہ میں لنک تیار کیا تھا۔