اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے 3.562 کھرب روپے کا صوبائی بجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کر دیا، جس میں 720 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام اور سماجی تحفظ کے مختلف منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے صوبے کی مجموعی آمدن کا تخمینہ 3.525 کھرب روپے لگایا گیا ہے، جبکہ مجموعی اخراجات 3.562 کھرب روپے ہوں گے، جس کے نتیجے میں تقریباً 36.9 ارب روپے کا بجٹ خسارہ متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ ایک ایسے وقت میں تیار کیا گیا ہے جب دنیا اور ملک کو جغرافیائی سیاسی کشیدگی، مہنگائی، موسمیاتی خطرات اور معاشی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ نئے مالی سال میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔ تعلیم سے متعلق معاون خدمات پر سیلز ٹیکس کم کر کے 5 فیصد کرنے، بیرون ملک روزگار فراہم کرنے والی ایجنسیوں اور پوائنٹ آف سیل سسٹم سے منسلک بیوٹی سیلونز کے لیے رعایتی ٹیکس برقرار رکھنے اور انشورنس ایجنٹس و بروکرز کو ٹیکس میں ریلیف دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
زرعی شعبے کے لیے بھی اہم مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔ زرعی سپر ٹیکس کی چھوٹ کی حد 15 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کر دی گئی ہے
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں یکم جولائی سے 7 فیصد اضافہ کیا جائے گا جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 43 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے۔
سندھ حکومت نے کمزور طبقات کی معاونت کے لیے 13.2 ارب روپے کے سماجی تحفظ پیکج کا بھی اعلان کیا ہے، جس میں کچن گارڈن پروگرام، بینظیر ہاری کارڈ، بینظیر ویمن ایگریکلچر ورکرز پروگرام اور بیواؤں و یتیموں کے لیے خصوصی امدادی اسکیمیں شامل ہیں۔
ترقیاتی پروگرام کے تحت تعلیم کے لیے 25.9 ارب روپے، صحت کے لیے 17.4 ارب روپے، بلدیاتی و شہری انفراسٹرکچر کے لیے 121.6 ارب روپے، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لیے 40.9 ارب روپے، آبپاشی کے لیے 30.9 ارب روپے، ٹرانسپورٹ و مواصلات کے لیے 39.5 ارب روپے اور زراعت و لائیو اسٹاک کے لیے 6.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران سندھ نے تاریخ کی سب سے زیادہ ترقیاتی فنڈنگ جاری کی اور 900 ارب روپے سے زائد ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے گئے۔
