PTI on the streets for Imran Khan's release, Sohail Afridi takes over the leadership of the long march

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق  حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کردیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اتوار کو لکی مروت کے گاندی چوک سے قافلے کی قیادت کی، جو بعد ازاں کرک ضلع میں داخل ہوگیا۔

سہیل آفریدی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت پہنچے، جہاں ہزاروں کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔ گاندی چوک پر کارکنوں نے پی ٹی آئی کے سرخ و سبز پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر مشتمل بڑے بینر اور ٹرک بھی موجود تھے۔

کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے اسلام آباد گئی تھی، تاہم ان کے بقول بند کمروں میں فیصلے کرنے والوں نے مذاکرات کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں صرف عمران خان کے وژن اور پالیسیوں پر عمل ہوگا اور صوبے یا پختونوں کے مفادات کے خلاف کوئی پالیسی قبول نہیں کی جائے گی۔

سہیل آفریدی نے کہا، ہم کسی کے یس مین نہیں، ہم عمران خان کے سپاہی ہیں۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 22 سال گزرنے کے باوجود دہشت گردی ختم نہیں ہوسکی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی حکومت کے دوران صوبے میں امن تھا، تاہم بعد میں حالات دوبارہ خراب ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر درست پالیسی اختیار کی جائے تو 100 دن میں امن بحال کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو قرار دیا اور کہا کہ وزیراعلیٰ نے مذاکرات کو سبوتاژ کیا۔

ادھر سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں ڈی آئی خان سے نکلنے والا قافلہ راستے میں رکاوٹوں اور امن و امان کی صورتحال کے باعث واپس ہوگیا۔ گنڈاپور نے کارکنوں کو پرامن رہنے اور پولیس سے تصادم سے گریز کی ہدایت کی۔

پی ٹی آئی کے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق قافلہ مختلف اضلاع سے کارکنوں کو ساتھ ملاتا ہوا پشاور اور پھر صوابی کی جانب بڑھے گا، جہاں آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔