PIMS tragedy Review of emergency safety arrangements in Punjab hospitals begins

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون  کی رپورٹ کے مطابق پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اسلام آباد کے مدر اینڈ چائلڈ وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد پنجاب کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات کا فوری جائزہ لینے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ صحت اور ایمرجنسی مینجمنٹ سے وابستہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ متعدد اسپتالوں میں کئی برس سے باقاعدگی کے ساتھ فائر ڈرلز نہ ہونے اور فائر فائٹنگ آلات کی کمی کے باعث مریضوں، تیمارداروں اور طبی عملے کو ہنگامی صورتحال میں سنگین خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے صوبے بھر کے اسپتالوں میں آگ اور دیگر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ کمیشن نے محکمہ صحت، ایمرجنسی سروسز اور اسپتال انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ مریضوں، تیمارداروں، طبی کارکنوں اور اسپتال کے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اور جامع انتظامات کیے جائیں۔

پی ایچ سی کے مطابق اسپتال انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ عملہ موجود ہو، فائر فائٹنگ اور دیگر ضروری آلات مکمل طور پر فعال حالت میں رکھے جائیں اور عملے کو ہنگامی حالات میں مؤثر ردعمل کے لیے باقاعدگی سے عملی مشقیں کرائی جائیں۔ کمیشن نے واضح کیا کہ صرف فائر سیفٹی آلات کی تنصیب کافی نہیں بلکہ ان کی کارکردگی کی مسلسل جانچ اور عملے کی عملی تربیت بھی ضروری ہے۔

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے اسپتالوں کو مقررہ کم از کم سروس ڈلیوری اسٹینڈرڈز پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ ان تقاضوں میں فسیلٹی مینجمنٹ سسٹم  اور ہسپتال انفیکشن کنٹرول سے متعلق حفاظتی معیارات بھی شامل ہیں۔

جاری ہدایات کے تحت اسپتالوں میں ایمرجنسی کوڈنگ سسٹم قائم کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے، جس میں آگ لگنے کی صورت میں کوڈ ریڈ استعمال کیا جائے گا۔ اسپتالوں کو فائر فائٹنگ آلات کی دستیابی اور فعالیت یقینی بنانے، عملے کو مناسب تربیت دینے، باقاعدگی سے ایمرجنسی اور فائر ڈرلز کرانے اور واضح اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز تیار کرکے ان پر عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔

پمز میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے نے ملک کے اسپتالوں میں ہنگامی حفاظتی انتظامات اور انخلا کے طریقہ کار پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کردی ہے، جبکہ پنجاب میں جاری نئی ہدایات کا مقصد ایسے واقعات کی صورت میں جانی نقصان کے خطرے کو کم کرنا ہے۔