اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی خبر کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں مشترکہ دفاعی تعاون کے ایک نئے معاہدے پر پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس پر جمعہ کو سعودی عرب میں ہونے والے سہ فریقی سربراہی اجلاس کے دوران دستخط متوقع ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ دفاعی معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع نے خطے کی سلامتی کو شدید متاثر کیا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان اس تنازع کو ختم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر ثالثی کی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر جمعرات کو سعودی عرب پہنچے، جہاں ان کا دورہ 8 اگست تک جاری رہے گا۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان بھی جمعہ کو سعودی عرب پہنچنے والے ہیں۔
جدہ پہنچنے پر مکہ کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز اور سعودی وزیر ماحولیات، پانی و زراعت عبدالرحمن عبدالمحسن الفضلی نے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سعودی عرب میں قیام کے دوران عمرہ بھی ادا کیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرا بی نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف 6 سے 8 اگست تک سعودی عرب کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں، جس کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات بھی ہوگی۔
دفتر خارجہ کے مطابق ملاقاتوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے علاوہ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ وفد میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی شامل ہیں، جو اردن کا دورہ مکمل کرنے کے بعد پہلے ہی سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق وزیراعظم کا دورہ علاقائی امن، سفارتی تعاون اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی کو آگے بڑھانے کے حوالے سے اہم ہے۔ پاکستان مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
