Neither a gas leak nor a garbage pile—the surprising reason behind the foul odor in Karachi's air has been revealed.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں بدھ کی صبح اچانک پھیلنے والی شدید بدبو نے شہریوں کو پریشان کردیا، تاہم ماہرین کے مطابق اس کے پیچھے کسی گیس لیک، خفیہ کچرے کے ڈھیر یا اچانک آلودگی کا واقعہ نہیں بلکہ سمندر میں ہونے والا ایک قدرتی موسمی عمل تھا۔

کلفٹن اور ڈیفنس سے لے کر کورنگی، پی ای سی ایچ ایس، ایم اے جناح روڈ، ٹاور اور کھارادر تک کئی علاقوں میں شہریوں نے بدبو محسوس کی۔ ساحلی علاقوں سے دور رہنے والے افراد بھی اس سے متاثر ہوئے۔

سمندری ماہرین کے مطابق مون سون کے دوران کراچی کے ساحلی پانیوں میں فائٹوپلانکٹن نامی خوردبینی سمندری نباتات تیزی سے بڑھتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی تعداد اتنی بڑھ جاتی ہے کہ سمندر کا پانی سبزی مائل دکھائی دینے لگتا ہے۔

مون سون کے اختتام پر جب ہوا، پانی کی حرکت اور دیگر موسمی حالات تبدیل ہوتے ہیں تو یہ خوردبینی جاندار مرنے لگتے ہیں۔ ان کے گلنے سڑنے کے عمل کے دوران پیدا ہونے والی بدبو ساحلی علاقوں سے شہر کی جانب پہنچ سکتی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ٹیکنیکل ایڈوائزر محمد معظم خان کے مطابق موسمی تبدیلیوں کے باعث فائٹوپلانکٹن قدرتی طور پر مرنے لگتے ہیں اور ان کے تحلیل ہونے سے تیز اور ناگوار بو پیدا ہوتی ہے۔ دیگر سمندری نباتات بھی اسی دوران مر کر بدبو میں اضافہ کرسکتی ہیں۔

معظم خان کے مطابق تقریباً تین روز قبل گوادر کے ساحل پر بھی اسی نوعیت کا مشاہدہ کیا گیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عمل ملک کے ساحلی علاقوں میں مون سون کے موسمی چکر کا حصہ ہے۔

کراچی میں بدبو کے دور تک پھیلنے کی ایک اہم وجہ کمزور سمندری ہوائیں بھی تھیں۔ پاکستان محکمہ موسمیات کے مطابق منگل کی رات سے بدھ کی صبح تک سمندری ہوائیں معمول سے کمزور رہیں، جس کے باعث بدبو منتشر ہونے کے بجائے شہر کے مختلف علاقوں میں ٹھہری رہی۔

بدھ کی شام جنوب مغربی سمندری ہواؤں کی رفتار 22 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی، جبکہ محکمہ موسمیات نے جمعرات سے سمندری ہواؤں کے مزید فعال ہونے کی توقع ظاہر کی۔ ہواؤں میں تیزی کے ساتھ بدبو کے بھی بتدریج ختم ہونے کا امکان ہے۔