اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے متعارف کرائی گئی ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن فنڈ اسکیم پر عملدرآمد کے لیے اہم پیش رفت کرتے ہوئے 16 اہل پنشن فنڈ مینیجرز کے ساتھ باضابطہ معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پنشن نظام کو مالی طور پر پائیدار بنانا اور قومی خزانے پر بڑھتے ہوئے پنشن اخراجات کا بوجھ کم کرنا ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق منتخب کیے گئے پنشن فنڈ مینیجرز میں ملک کے بڑے بینکوں اور انشورنس کمپنیوں سے وابستہ ادارے شامل ہیں۔
ان معاہدوں کے تحت یہ ادارے وفاقی حکومت کے ملازمین کے لیے روایتی اور شریعہ سے ہم آہنگ علیحدہ پنشن فنڈ قائم کریں گے اور انہیںرضاکارانہ پنشن سسٹم رولز 2005 کے مطابق چلائیں گے۔ اس کے علاوہ تمام ملازمین کے لیے موت اور مستقل معذوری کی صورت میں انشورنس تحفظ فراہم کرنا بھی ان فنڈ مینیجرز کی ذمہ داری ہوگی۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت اس اسکیم کی نگرانی اور مؤثر عملدرآمد کے لیے ایک نان بینکنگ فنانس کمپنی بھی قائم کرے گی۔ تاہم اس ادارے کے مکمل طور پر فعال ہونے تک وزارت خزانہ خود اس کے فرائض انجام دے گی اور ملازمین کے پنشن اکاؤنٹس، رقوم کی منتقلی اور ریکارڈ کی نگرانی کے لیے ایک آن لائن پورٹل بھی قائم کیا جائے گا۔
نئے قواعد کے مطابق سرکاری ملازم ریٹائرمنٹ سے قبل اپنے پنشن اکاؤنٹ سے کوئی رقم نہیں نکال سکے گا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جمع شدہ رقم کا زیادہ سے زیادہ 25 فیصد فوری طور پر وصول کیا جا سکے گا، جبکہ باقی 75 فیصد رقم کم از کم 20 سال یا ملازم کی وفات تک پنشن اسکیم کے تحت سرمایہ کاری میں رکھی جائے گی۔ ملازمین کو یہ سہولت بھی حاصل ہوگی کہ وہ اپنی پنشن رقم ایک منظور شدہ فنڈ مینیجر سے دوسرے فنڈ مینیجر کو منتقل کر سکیں۔
حکومت نے یہ پنشن اصلاحات 2024 میں متعارف کرائی تھیں، جن کے تحت یکم جولائی 2024 کے بعد بھرتی ہونے والے وفاقی سول ملازمین کے لیے کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم نافذ کی گئی، جبکہ مسلح افواج کے اہلکاروں کے لیے اس کا اطلاق یکم جولائی 2025 سے ہونا تھا، تاہم سکیورٹی اور انتظامی معاملات کے باعث اس پر عملدرآمد مؤخر کر دیا گیا۔
اکتوبر 2025 کے نوٹیفکیشن کے مطابق ملازمین اپنی پنشن ایبل تنخواہ کا 10 فیصد جبکہ حکومت 12 فیصد حصہ پنشن فنڈ میں جمع کرائے گی، یوں مجموعی کنٹری بیوشن 22 فیصد ہوگی، جو نئے ملازمین کے لیے روایتی پنشن نظام کی جگہ لے گی۔
