Major increase in Washington’s war bill; an additional $6 billion in military costs on the Iran front.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع کے تازہ تخمینے کے مطابق ایران کے خلاف جنگ پر امریکا کے فوجی اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں، جو جولائی میں دیے گئے تخمینے سے 25 فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔

 خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسے حاصل ہونے والے پینٹاگون کے اعدادوشمار میں جنگی کارروائیوں اور استعمال ہونے والے فوجی سازوسامان کی جگہ نئے ہتھیار فراہم کرنے کے اخراجات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے اس تخمینے کو عوامی سطح پر جاری نہیں کیا تھا اور ادارے نے اس بارے میں رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب بھی نہیں دیا۔

 جولائی میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران جنگ کی لاگت 37.5 ارب ڈالر بتائی تھی، جس کے مقابلے میں تازہ تخمینہ نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

پینٹاگون کے تخمینے میں استعمال شدہ گولہ بارود اور میزائلوں کی جگہ نئے ہتھیار خریدنے کے لیے 29 ارب ڈالر سے زیادہ رقم درکار ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

 اس کے علاوہ فوجی سازوسامان اور پلیٹ فارم نقصانات کی تلافی کے لیے 6 ارب ڈالر سے زائد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ ان نقصانات میں جنگ کے دوران تباہ یا ضائع ہونے والے طیارے اور بڑی تعداد میں ڈرونز بھی شامل ہیں۔

رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی اور ابتدا میں کہا تھا کہ یہ تنازع زیادہ عرصے تک جاری نہیں رہے گا۔ 

امریکی حکمت عملی میں پہلے مہنگے اور جدید درست نشانہ لگانے والے میزائلوں سے ایرانی دفاعی نظام کو کمزور کرنا، پھر نسبتاً سستے ہتھیار استعمال کرنا شامل تھا۔

تاہم اپریل میں ہونے والی جنگ بندی نے ایران کو زیرِ زمین ذخیرہ گاہیں دوبارہ فعال کرنے اور بعض دفاعی نظام، میزائل اور ڈرونز بحال کرنے کا موقع دیا۔

 اس کے بعد ٹرمپ نے ایران کی تیل برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن محدود کرنے کے لیے بحری ناکہ بندی نافذ کی اور وسط مدتی انتخابات کے بعد دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان بھی ظاہر کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پینٹاگون کے مجموعی تخمینے میں پروازوں، سائبر معاونت اور دیگر عملی اخراجات شامل ہیں، لیکن ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت پر ممکنہ بھاری لاگت واضح طور پر شامل نہیں۔ 

جنگ کے بڑھتے اخراجات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب 3 نومبر کے انتخابات سے پہلے اس تنازع کے سیاسی اثرات پر بھی بحث جاری ہے۔