Is Pakistan’s justice system truly a copy of the British judicial system

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) وکیل عمر گیلانی  نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر اپنی ایک تحریر میں پاکستان کے نظامِ انصاف اور انگلستان کے عدالتی نظام کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا نظامِ انصاف انگریزوں کے اپنے ملک میں رائج نظام سے مختلف ہے۔

عمر گیلانی کے مطابق، پاکستان میں یہ تصور عام ہے کہ یہاں انگریزوں کے نظامِ انصاف کو کاپی پیسٹ کیا گیا، تاہم ان کے محدود علم کے مطابق یہ تاثر درست نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانوی حکمرانوں نے برصغیر میں جو قانونی نظام قائم کیا، وہ انگلستان میں رائج نظام سے مختلف تھا۔

انہوں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ انگلستان میں عدلیہ کی بڑی اکثریت پیشہ ور اور تنخواہ دار ججوں کے بجائے معاشرے کے معزز افراد پر مشتمل رہی ہے۔ ان کے مطابق، وہاں زیادہ تر مجسٹریٹس وکلا میں سے نہیں بلکہ عام شہریوں میں سے منتخب کیے جاتے ہیں۔

گیلانی نے لکھا کہ انگلستان میں فوجداری مقدمات میں سے 95 فیصد مجسٹریٹس کی عدالتوں میں سنے جاتے ہیں، جہاں مجسٹریٹس کی تعداد 15 ہزار سے زیادہ ہے۔ ان کے بقول، ان میں سے شاید ہی کسی نے قانون کی ڈگری حاصل کی ہو۔ یہ افراد معاشرے کے معززین میں سے منتخب ہوتے ہیں اور سال کے کچھ دن بلا معاوضہ عدالتی خدمات انجام دیتے ہیں۔ مقدمے کے فریقین کے وکلا انہیں کیس سمجھاتے ہیں، جبکہ قانونی پیچیدگی کی صورت میں ایک قانونی مشیر معاونت کے لیے موجود ہوتا ہے۔

عمر گیلانی کے مطابق، انگلستان میں تنخواہ دار اور پیشہ ور ججوں کی تعداد شاید دو ہزار سے بھی کم ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ فوجداری نظام کی اعلیٰ عدالتوں میں جیوری اہم کردار ادا کرتی ہے، جو عام شہریوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان کے بیان کردہ اعداد و شمار کے مطابق، وہاں ٹربیونلز میں 1,840 ججوں کے ساتھ 3,497 ایسے افراد بھی کام کرتے ہیں جو نہ کبھی وکیل رہے اور نہ ہی انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی۔

اس کے برعکس، گیلانی کے مطابق، برصغیر میں انگریزوں کا قائم کردہ نظامِ انصاف ملازمت پیشہ افراد پر مشتمل تھا اور اس کا ڈھانچہ بیوروکریسی پر مبنی تھا۔ انہوں نے اس نظام کو سامراجی ریاست کی جانب سے محکوم قوم پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا۔

اپنی تحریر کے اختتام پر عمر گیلانی نے زور دیا کہ بہتر نظامِ انصاف کی تشکیل کے لیے دنیا کے مختلف عدالتی نظاموں کا تقابلی مطالعہ کیا جائے اور جہاں جو بہتر ہو، اس سے سیکھا جائے۔ انہوں نے عام طور پر دہرائے جانے والے مغالطوں کو دور کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔