اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نیشنل پریئر بریک فاسٹ میں شرکت کے بعد بلاول بھٹو کے سیاسی مخالفین یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ انہوں نے اس اعلیٰ سطحی تقریب میں شرکت کے لیے پیسے دیے تھے اور انہیں کوئی سرکاری دعوت نہیں دی گئی تھی۔

دوسری طرف کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انہوں نے اس دعوت میں شرکت کے لیے کوئی فیس نہیں بھری بلکہ انہیں امریکی صدر کی طرف سے اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی۔

ایسے میں پاکستان کے امریکا میں سابق سفیر حسین حقانی اور پی ٹی آئی کے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے درمیان ایکس پر دلچسپ بحث چھڑ گئی ہے۔

فواد چوہدری نے جمعے کے روز ایکس پر لکھا، ’صدر ٹرمپ کا 73ویں نیشنل بریک فاسٹ سے خطاب ختم ہوا ہے، شاید ہی کسی اور ملک کے وزیر خارجہ نے اس طرح ٹکٹ لے کر خطاب سنا ہو جس طرح بلاول بھٹو صاحب نے سنا ہے، حیران ہوں اتنی کیا Obsession ہے!‘

فواد چوہدری کی ایکس پوسٹ کوشیئر کرتے ہوئے حسین حقانی کا کہنا تھا کہ اس تقریب کے ٹکٹ نہیں ہوتے بلکہ اس میں مہمانوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ انہوں نے فواد چوہدری پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ بندہ جہلم میں بیٹھکر واشنگٹن کی بات کرے تو کسی سے پُوچھ ہی لیتا ہے۔ ویسے ٹکٹ کی بات ہوتی تو پی ٹی آئی والوں کے پاس چندہ کی کیا کمی ہے؟ کسی ڈاکٹر سے کہہ کر ٹکٹ خریدوا لیتے۔

اس کے بعد فواد چوہدری نے ایک اور اسکرین شوٹ شیئر کیا جس میں کہا گیا تھا کہ اس تقریب میں مہمانوں کی دعوت سے امریکی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہوتا نہ ہی اس میں شریک مہمانوں کی تقریریں امریکی حکومت کے موقف کی نمائندگی کرتے ہیں۔

فواد چوہدری نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ایک وقت تھا نیٹ نہیں تھا آپ نے کافی جھوٹ بیچا اب ہر چیز نیٹ پر مل جاتی ہے آپ کو اپنی دکان بند کر کے ابو ظہبی آنا پڑا۔

اس پوسٹ کو بھی سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے شیئر کیا اور لکھا کہ فواد چوہدری نے جواب میں بھی ٹکٹ والے دعوے کا کوئی ثبوت تو کیا ذکر بھی نہیں۔ یہ تو ایشو تھا ہی نہیں کہ نیشنل پرئیر بریک فاسٹ کوئی امریکی سرکاری تقریب تھی۔ امریکی آئین سرکاری خرچ پر مذہبی تقریب کے انعقاد کی اجازت ہی نہیں دیتا۔