اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق قومی سلامتی مشیر اور بعد ازاں ان کے سخت ناقد بننے والے جان بولٹن نے خفیہ سرکاری معلومات کے غلط استعمال کے مقدمے میں وفاقی عدالت کے سامنے جرم قبول کر لیا ہے۔ پلی بارگین معاہدے کے تحت انہیں لاکھوں ڈالر جرمانہ، کمیونٹی سروس اور دیگر قانونی پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا، جبکہ عدالت انہیں زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید کی سزا بھی سنا سکتی ہے۔
میری لینڈ کی وفاقی عدالت میں سماعت کے دوران 77 سالہ جان بولٹن نے امریکی ڈسٹرکٹ جج تھیوڈور ڈی چوانگ کے روبرو اپنے بیان میں کہا کہ انہیں اپنے کیے پر افسوس ہے۔ عدالت نے مقدمے کی حتمی سزا سنانے کے لیے 28 اکتوبر کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
استغاثہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مطابق جان بولٹن 22 لاکھ 50 ہزار ڈالر جرمانہ ادا کریں گے، جس میں سزا سنائے جانے کے پانچ روز کے اندر نصف رقم جبکہ نوے روز کے اندر مکمل ادائیگی کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ وہ 100 گھنٹے کمیونٹی سروس بھی انجام دیں گے، امریکی انٹیلی جنس اور محکمہ انصاف کے حکام کو تفصیلی بریفنگ دیں گے اور اپنی سرکاری پنشن سے بھی دستبردار ہوں گے۔
سرکاری استغاثہ کے مطابق بولٹن نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب کی تیاری کے دوران حساس سرکاری معلومات، انٹیلی جنس بریفنگز، اعلیٰ حکومتی اجلاسوں اور غیر ملکی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے نوٹس سمیت ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل خفیہ مواد اپنے دو قریبی رشتہ داروں کے ساتھ شیئر کیا تھا۔
اگرچہ استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ بولٹن کی کتاب میں کوئی خفیہ معلومات شائع نہیں ہوئیں، تاہم حساس دستاویزات کو ذاتی ای میل اکاؤنٹ پر محفوظ رکھنے سے قومی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوئے، خصوصاً اس وقت جب ان کا ای میل مبینہ طور پر ایران سے منسلک ہیکرز کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔
امریکی اٹارنی کیلی او ہیز نے سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جان بولٹن کے اقدامات نے امریکا کی قومی سلامتی کو سنگین خطرے سے دوچار کیا، کیونکہ خفیہ معلومات کو ذاتی ذرائع پر رکھنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔
دوسری جانب جان بولٹن کے وکیل ایبے لوویل نے کہا کہ ان کے مؤکل نے اپنی غلطی کی ذمہ داری قبول کر کے مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے بھی خفیہ دستاویزات اپنے پاس رکھیں لیکن کبھی ان کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
جان بولٹن ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت کے دوران قومی سلامتی کے مشیر رہے، تاہم بعد میں دونوں کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوگئے۔ اپنی کتاب میں بولٹن نے ٹرمپ کی پالیسیوں اور طرز حکمرانی پر سخت تنقید کی تھی، جس کے بعد وہ ریپبلکن سیاست میں بھی ایک متنازع شخصیت بن گئے۔
