Azad Kashmir elections PML-N leads in first phase, allegations of riots and rigging

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوزکی رپورٹ کے مطابق آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ مکمل ہوگئی، تاہم انتخابی عمل کے دوران تشدد، ہنگامہ آرائی اور دھاندلی کے الزامات نے نتائج کو متنازع بنا دیا۔ غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) سات نشستوں پر جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی پانچ نشستوں پر برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہی، جبکہ ایک نشست کا فیصلہ رات گئے تک نہ ہو سکا۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے صرف حلقہ ایل اے-1 میرپور-I کا سرکاری نتیجہ جاری کیا، جس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے اظہر صادق 15 ہزار 427 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، جبکہ ان کے مدمقابل محمد افضل شاہد نے 9 ہزار 832 ووٹ حاصل کیے۔ دیگر حلقوں کے نتائج مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق بھمبر کی تینوں نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کو برتری ملی، جبکہ میرپور اور کوٹلی میں دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ کوٹلی کے حلقہ ایل اے-11 میں رات گئے تک مقابلہ انتہائی قریب رہا۔

پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی اور ایک گھنٹے کی توسیع کے بعد شام 6 بجے ختم ہوئی۔ مجموعی طور پر 288 امیدوار میدان میں تھے جبکہ 2,316 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے، جن میں 1,241 انتہائی حساس اور 724 حساس قرار دیے گئے تھے۔ کوٹلی کے حلقہ ایل اے 9 نکیال میں فائرنگ کے واقعے میں پیپلز پارٹی کا ایک کارکن مختار یونس جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔ کمشنر میرپور نے واقعے کی تصدیق کی، جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران سماہنی میں بیلٹ بکس چھیننے اور فائرنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) پر بیلٹ باکس بھرنے، دھاندلی اور سرکاری وسائل کے استعمال کے الزامات عائد کیے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان ٹی ٹی اے پی نے بھی انتخابی عمل پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے اسے عوامی اعتماد حاصل کرنے میں ناکام قرار دیا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بائیکاٹ کو درست قرار دیتے ہوئے کم ٹرن آؤٹ کو عوامی بے اطمینانی کا اظہار قرار دیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ چند واقعات کے باوجود مجموعی طور پر انتخابی عمل مکمل ہوا اور بے ضابطگیوں کی شکایات پر کارروائی کی جا رہی ہے۔