اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) گوگل ڈیپ مائنڈ کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈی مس ہسابیس نے اپنے شائع ہونے والے آرٹیکل میں خبردار کیا ہے کہ دنیا مصنوعی ذہانت کے ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں آرٹیفیشل جنرل انٹیلی جنس آئندہ چند برسوں میں حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت صرف ایک نئی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے ایک نئے عہد کا آغاز ہو سکتی ہے، جس کے اثرات صنعتی انقلاب، انٹرنیٹ اور موبائل ٹیکنالوجی سے بھی کہیں زیادہ گہرے ہوں گے۔
اپنے تفصیلی مضمون "فرنٹیئر اے آئ اور نئے دور کے آغاز کے لیے ایک فریم ورک” میں ڈی مس ہسابیس نے کہا کہ اگر اے جی آئی کو محفوظ، ذمہ دارانہ اور مؤثر انداز میں تیار کیا گیا تو یہ انسانیت کے لیے اب تک کی سب سے بڑی سائنسی اور تکنیکی کامیابی ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت ادویات کی دریافت، نئی توانائی کے ذرائع، جدید مواد کی تیاری اور پیچیدہ سائنسی مسائل کے حل میں غیر معمولی کردار ادا کر سکتی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ اے جی آئی کی آمد دنیا کو ایسے دور میں داخل کر سکتی ہے جہاں وسائل کی کمی انسانی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ نہ رہے۔ ان کے بقول، یہ ٹیکنالوجی عالمی معیشت، تحقیق، صحت اور انسانی فلاح کے شعبوں میں ایسی تبدیلیاں لا سکتی ہے جن کا تصور آج مشکل دکھائی دیتا ہے۔
تاہم ڈی مس ہسابیس نے اس پیش رفت سے جڑے خطرات کی جانب بھی توجہ دلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے اے آئی سسٹمز زیادہ طاقتور اور خودمختار ہوتے جا رہے ہیں، ویسے ویسے سائبر سیکیورٹی، حیاتیاتی خطرات، جوہری سلامتی اور خودکار فیصلہ سازی سے متعلق نئے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس وقت مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار، اس کے ممکنہ اثرات اور خطرات کے بارے میں عالمی فہم سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔
ڈیپ مائنڈ کے سربراہ نے تجویز دی کہ امریکا میں ایک فرنٹیئر اے آئی اسٹینڈرڈز باڈی قائم کی جائے جو حکومت، نجی شعبے، سائنسی ماہرین اور اوپن سورس کمیونٹی کے اشتراک سے کام کرے۔ یہ ادارہ جدید ترین اے آئی ماڈلز کی جانچ، ان کے حفاظتی معیارات کا تعین اور قومی سلامتی سے متعلق ممکنہ خطرات کا جائزہ لینے کا ذمہ دار ہو۔
ان کے مطابق ایسے تمام اے آئی ماڈلز جو مخصوص تکنیکی صلاحیتوں کی حد عبور کر جائیں، انہیں فرنٹیئر ماڈلز قرار دیا جانا چاہیے اور ان کی باقاعدہ جانچ، سیکیورٹی آڈٹ اور حفاظتی جائزہ لازمی ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل میں اے آئی کی نگرانی صرف کمپنیوں پر نہیں چھوڑی جا سکتی بلکہ اس کے لیے مضبوط اور شفاف ضابطہ جاتی نظام ناگزیر ہوگا۔
ڈی مس ہسابیس کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل ابھی طے نہیں ہوا اور انسانیت کے پاس اب بھی وقت موجود ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو درست سمت میں لے جائے۔ ان کے مطابق اگر دنیا نے بروقت مشترکہ اصول، عالمی تعاون اور سائنسی بنیادوں پر مبنی حفاظتی نظام تشکیل دے دیا تو اے جی آئی انسانی ترقی، سائنسی دریافتوں اور معاشی خوشحالی کے ایک نئے سنہری دور کا دروازہ کھول سکتی ہے۔
