Fears of sensitive technology reaching foreign governments; OpenAI employees had already issued a warning.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی کے سابق ملازمین نے انکشاف کیا ہے کہ ادارے کے اندر سکیورٹی خامیوں سے متعلق خدشات چیٹ جی پی ٹی کے اجرا سے بھی پہلے اعلیٰ انتظامیہ اور بورڈ آف ڈائریکٹرز تک پہنچائے گئے تھے۔

 تاہم بعض ملازمین کو محسوس ہوا کہ انتظامیہ کی ترجیح گوگل اور اینتھروپک جیسی کمپنیوں سے مقابلے میں تیزی برقرار رکھنا تھی، نہ کہ سکیورٹی کے نظام کو مضبوط بنانا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق معاملے سے واقف پانچ افراد نے بتایا کہ ملازمین کو خدشہ تھا کہ کمزور حفاظتی انتظامات کے باعث بیرونی عناصر، حتیٰ کہ غیر ملکی حکومتیں بھی کمپنی کی حساس ٹیکنالوجی سے متعلق معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔

 ان کے مطابق اوپن اے آئی کے کوڈ تک رسائی رکھنے والے افراد کئی ایسے منصوبوں کی تکنیکی تفصیلات دیکھ سکتے تھے جن کا ان کے کام سے براہِ راست تعلق نہیں تھا۔

اکتوبر میں کمپنی کے ایک ایگزیکٹو کانفرنس روم میں خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس ملنے کے بعد سابق ملازمین نے کہا کہ وہ اس واقعے پر حیران نہیں تھے۔

 13 اکتوبر کو امریکی محکمہ انصاف نے سعودی شہری عبدالرحمٰن الفوزان کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا، جس پر کانفرنس روم میں ٹشو پیپر کے اندر چھپا ریکارڈنگ آلہ نصب کرنے کا الزام ہے۔ 35 سالہ الفوزان اس وقت اوپن اے آئی میں انجینئر تھا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق الفوزان نے ملازمین کے لیے بنائے گئے اے آئی ٹول کے ذریعے سعودی عرب جانے والے اوپن اے آئی عہدیداروں اور سعودی وزرا سے ملاقاتوں سے متعلق اندرونی دستاویزات بھی تلاش کیں۔

 وہ سعودی شاہی خاندان کے ایک فرد سے رابطے میں تھا، جس نے اسے سعودی عرب میں شروع ہونے والے ایک نئے اے آئی منصوبے میں شامل ہونے کی پیشکش کی تھی۔ الفوزان کے وکلا نے رائٹرز کی درخواست پر تبصرہ نہیں کیا۔

ذرائع کے مطابق کمپنی کا زیادہ تر کوڈ ایک مشترکہ ذخیرے، جسے مونو ریپو کہا جاتا ہے، میں موجود تھا۔ ملازمین کو خدشہ تھا کہ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس اب اس وسیع ذخیرے سے معلومات تیزی سے تلاش کر سکتے ہیں۔

 اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ انتہائی حساس منصوبوں کے لیے الگ کوڈ ریپوزٹریز اور سخت رسائی کنٹرول موجود ہیں، جبکہ مونو ریپو میں ماڈلز کے اہم وزن یا تمام حساس تفصیلات شامل نہیں۔

کمپنی کے اندرونی ٹولز، خصوصاً ان سینڈ باکسز کے باقاعدہ سکیورٹی جائزوں میں بھی پہلے کمی کی نشاندہی کی گئی تھی جہاں محققین نئے ماڈلز کی جانچ کرتے ہیں۔ اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ اب ایسے ٹولز کے باقاعدہ سکیورٹی جائزے کیے جا رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق سینئر ایگزیکٹو تھیبالٹ سوٹیوکس، جنہیں ٹیبو بھی کہا جاتا ہے، نے داخلی سکیورٹی منصوبے کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔

 اگست میں انہوں نے کمپنی کے ایک چوتھائی پروڈکشن انجینئرز کو سکیورٹی انفراسٹرکچر بہتر بنانے پر مامور کیا۔

اوپن اے آئی کی ترجمان ایلانا وِڈمین نے کہا کہ کمپنی دنیا کے سب سے زیادہ نشانہ بننے والے اداروں میں شامل ہے اور اندرونی خطرات، سائبر جرائم پیشہ افراد اور ریاستی عناصر سے تحفظ کے لیے بھاری سرمایہ کاری کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق حالیہ اقدامات خطرات کی نشاندہی اور فوری ردعمل کی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔