Deprivation of electricity and heat in winter, international organization concerned about Russian actions in Ukraine

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ ایک تحقیقاتی کمیشن نے کہا ہے کہ یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر روسی حملے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

 کمیشن کے مطابق، ان حملوں کے نتیجے میں لاکھوں یوکرینی شہری بجلی اور گھروں کو گرم رکھنے کی سہولت سے محروم ہوئے، جس سے سرد موسم کے دوران عام زندگی شدید متاثر ہوئی۔

کمیشن نے اپنی تحقیقات کے دوران یوکرین کے 255 شہریوں کے انٹرویوز کیے۔ ان افراد کا تعلق دارالحکومت کیف اور ملک کے آٹھ دیگر علاقوں سے تھا، جہاں 2025-26 کے موسم سرما میں توانائی کی فراہمی اور شہری سہولتوں پر حملوں کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ میں توانائی کے نظام کو پہنچنے والے نقصان اور شہری آبادی کو درپیش مشکلات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

تحقیقاتی کمیشن نے ایک اور معاملے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ 29 ممالک سے تعلق رکھنے والے مردوں کو دھوکے یا دباؤ کے ذریعے روسی افواج میں بھرتی کیا گیا۔ ا

ن ممالک میں بنگلہ دیش، بھارت، ترکیہ، اردن اور نائیجیریا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔ کمیشن کے مطابق، بیرون ملک سے افراد کی بھرتی کے طریقوں اور ان کے حالات کا مزید جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں لگائے گئے الزامات یوکرین جنگ کے دوران شہریوں اور بنیادی سہولتوں کو پہنچنے والے نقصان پر عالمی تشویش کی عکاسی کرتے ہیں۔

 توانائی کی تنصیبات پر حملے سردیوں میں بجلی، حرارت اور دیگر ضروری خدمات کی فراہمی کو متاثر کر سکتے ہیں، جس کے اثرات عام شہریوں تک پہنچتے ہیں۔

روس نے تحقیقاتی کمیشن کے اختیار اور اس کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کو غلط معلومات پر مبنی قرار دیا ہے۔ 

ماسکو کا مؤقف ہے کہ کمیشن کی تحقیقات قابل قبول نہیں، جبکہ رپورٹ میں روسی کارروائیوں پر سنگین قانونی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے نتائج جنگ میں شہری تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی سے متعلق بحث کو مزید اہم بنا سکتے ہیں۔

 تاہم، الزامات اور قانونی ذمہ داری کے حتمی تعین کے لیے متعلقہ قانونی عمل اور شواہد کی جانچ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔