اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کی ہلاکتوں کے المناک واقعے پر سیاسی رہنماؤں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔ رہنماؤں نے حادثے کی شفاف تحقیقات، ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے فوری اقدامات اور تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ پشاور ایک بار پھر سوگ میں ڈوب گیا ہے اور اپنے بچوں کو کھونے والے والدین کے دکھ کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حادثے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔
ایمل ولی خان نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی فوری جانچ پڑتال اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے صرف افسوس کا اظہار کافی نہیں، بلکہ عمارتوں کی حالت اور حفاظتی معیار کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے خدشہ ظاہر کیا کہ ملبے تلے مزید بچے دبے ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے ریسکیو کارروائیوں میں تاخیر نہ کرنے اور ملبہ ہٹانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی اپیل کی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے صدر اور وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے حادثے کو ایک ناقابل برداشت انسانی المیہ قرار دیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے جامع اور شفاف تحقیقات پر زور دیا تاکہ حادثے کی اصل وجہ سامنے آسکے اور اگر کسی کی غفلت یا حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے۔
شیخ وقاص اکرم نے اسکولوں کی عمارتوں کی ساختی مضبوطی جانچنے، تعمیراتی قواعد پر عمل درآمد اور باقاعدہ معائنے و نگرانی کا نظام مؤثر بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ رہنماؤں کے مطابق تعلیمی اداروں میں بچوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا متعلقہ حکام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
