اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق شمالی کوریا نے پیر کو اپنے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل داغ دیے، جس پر جنوبی کوریا نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق ایک ماہ کے دوران یہ شمالی کوریا کا چوتھا میزائل تجربہ ہے، جو سیول کے حالیہ ہائپرسونک میزائل تجربے کے چند روز بعد کیا گیا۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق میزائل مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بج کر 20 منٹ پر پیانگ یانگ کے قریب سے داغے گئے۔ ابتدائی تجزیے سے معلوم ہوا کہ میزائل مختلف اقسام کے تھے اور ان میں سے ایک قسم نے 900 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کیا، جو تقریباً 559 میل بنتا ہے۔
جاپان کے کوسٹ گارڈ نے بھی دو نامعلوم میزائل نما اجسام داغے جانے کی اطلاع دی اور کہا کہ بظاہر دونوں سمندر میں گر چکے تھے۔ امریکی پیسیفک کمانڈ نے میزائل تجربات سے آگاہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے امریکی اہلکاروں، سرزمین یا اتحادیوں کو فوری خطرہ لاحق ہونے کے آثار نہیں تھے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں سے رابطے میں ہے۔
جنوبی کوریا کے قومی سلامتی دفتر نے ہنگامی اجلاس طلب کیا اور تجربات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے پیانگ یانگ سے ایسے اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا۔ شمالی کوریا 2006 سے اقوام متحدہ کی پابندیوں کی زد میں ہے، جن کا مقصد اس کے جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنا ہے۔
گزشتہ ہفتے جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے ملک کے پہلے ہائپرسونک میزائل کے آزمائشی تجربے کا مشاہدہ کیا تھا۔ جنوبی کوریا کی فوج کے ترجمان نے شمالی کوریا کی تازہ کارروائی کو سیول کے کامیاب تجربے کے جواب میں طاقت کا مظاہرہ اور میزائل صلاحیتوں کی دانستہ نمائش قرار دیا۔
دونوں ممالک کے حالیہ ہتھیاروں کے تجربات نے جزیرہ نما کوریا میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
