اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں انتظامی سطح پر بڑے پیمانے پر ردوبدل کرتے ہوئے چھ ڈویژنوں کے کمشنرز سمیت متعدد اعلیٰ سرکاری افسران کے تبادلے اور نئی تعیناتیاں کردی گئی ہیں۔ تبدیلیوں میں ڈپٹی کمشنرز اور پولیس کے سینئر افسران بھی شامل ہیں۔ یہ پیش رفت صوبے میں ہنگامی انتظامی اقدامات اور گورنر راج کے بعد سامنے آئی ہے۔
جاری کردہ احکامات کے مطابق اسپیشل سیکریٹری زراعت پرویز کو کمشنر کوہاٹ تعینات کیا گیا ہے، جبکہ کمشنر بنوں خالد محمود کو پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔ تعیناتی کے منتظر احمد علی شاہ کو کمشنر مردان کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ڈائریکٹر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نعیم اللہ کو کمشنر بنوں جبکہ اسپیشل سیکریٹری داخلہ شاکر اللہ کو کمشنر ہزارہ مقرر کیا گیا ہے۔ وفاقی جوائنٹ سیکریٹری اقبال حسین کو کمشنر ملاکنڈ تعینات کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب کئی افسران کو عہدوں سے ہٹا کر آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی قرار دیا گیا ہے۔ ان میں ریاض خان محسود اور حبیب اللہ عارف شامل ہیں۔ شاہد اللہ، مسعود احمد اور معتصم باللہ کو بھی محکمہ اسٹیبلشمنٹ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ چار کمشنرز کو او ایس ڈی کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ڈپٹی کمشنرز کی سطح پر بھی نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ محمد وسیم کو ہری پور، عارف خان کو ملاکنڈ، آفاق وزیر کو پشاور اور احسان اللہ کو لوئر چترال تعینات کیا گیا ہے۔ محکمہ زراعت کے ایک ایڈیشنل سیکریٹری کو اپر دیر، شہریار قمر کو اپر سوات، گوہر علی کو بٹگرام، بہزاد عادل کو ایبٹ آباد، شاہد رفیق کو لکی مروت اور شاہ سعود کو مردان کا ڈپٹی کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔
پولیس کے اعلیٰ عہدوں پر بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس فصیح الدین کو اسلام آباد رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ ہزارہ ریجن کے ریجنل پولیس افسر ناصر محمود ستی کو فرنٹیئر ریزرو پولیس کا کمانڈنٹ تعینات کیا گیا ہے۔
ان تبادلوں کے ذریعے صوبے کی انتظامی مشینری میں وسیع پیمانے پر تبدیلی کی گئی ہے۔ تاہم حکومتی سطح پر ان اقدامات کی وجوہات اور آئندہ انتظامی ترجیحات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
