اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے لانگ مارچ کا روٹ تبدیل کردیا ہے اور اب مارچ پہلے خیبر جائے گا، جس کے بعد پشاور کی جانب پیش قدمی کی جائے گی۔
کوہاٹ کے یونیورسٹی چوک میں احتجاجی شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے ابتدا میں مارچ کو براہ راست پشاور لے جانے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم پارٹی حکمت عملی کے تحت روٹ میں تبدیلی کی گئی ہے۔
سہیل آفریدی نے مارچ کی صورتحال کو کرکٹ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں، ابھی بہت سے اوورز اور کھلاڑی باقی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مارچ بالآخر اسلام آباد جائے گا، لیکن اس کا فیصلہ پی ٹی آئی خود کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پارٹی اسلام آباد جانے کا فیصلہ کرے گی تو کوئی ہمیں روک نہیں سکے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے عمران خان کے معاملے پر آئینی، قانونی اور جمہوری راستے استعمال کیے، تاہم ان کے مطابق تمام راستے اختیار کرنے کے بعد پارٹی سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوئی۔
ان کے مطابق لانگ مارچ کا بنیادی مقصد عمران خان کو جیل سے باہر لانا اور انہیں دوبارہ وزیراعظم بنوانا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ مارچ کے سات نکاتی مطالبات پہلے ہی سوشل میڈیا پر جاری کیے جاچکے ہیں اور کسی کو چیلنج کیا کہ وہ ان میں سے ایک بھی ایسا مطالبہ بتائے جو آئین یا قانون کے خلاف ہو۔
انہوں نے عمران خان کے طبی معائنے، ان سے ملاقات اور قانون کے مطابق رہائی کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر سابق وزیراعظم کے مقدمات کی سماعت ہو تو وہ ایک گھنٹے میں رہا ہوسکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے عمران خان کی صحت سے متعلق اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا الزام تھا کہ سابق وزیراعظم کی صحت کے ساتھ کھیلا جارہا ہے اور اگر انہیں کوئی نقصان پہنچا تو جیل انتظامیہ، وزیراعظم اور دیگر متعلقہ حکام ذمہ دار ہوں گے۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے متعدد مرتبہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت مانگی، وزیراعظم سے رابطہ کیا اور خیبر پختونخوا اسمبلی نے بھی ملاقات کے حق میں قرارداد منظور کی۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے چیف جسٹس پاکستان سے بھی رجوع کیا، تاہم انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عدالتیں، اسمبلیاں اور ریاستی ادارے عوام کے ٹیکس سے چلتے ہیں، اس لیے عوام کو انصاف کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے۔
ان کے بقول اگر عدالتوں سے انصاف نہ ملا تو عوام سڑکوں پر انصاف طلب کریں گے۔
