اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوزکی خبر کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے اتوار کو امارات کے دورے کی پہلی مرتبہ باضابطہ تصدیق کردی ہے۔ اماراتی سرکاری خبر رساں ادارے وام کے مطابق نیتن یاہو نے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور انہیں مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر بات چیت ہوئی۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے بھی تصدیق کی کہ نیتن یاہو نے اماراتی صدر کی دعوت پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا۔ دفتر کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط بنانے کے ساتھ علاقائی چیلنجز پر گفتگو ہوئی۔
تاہم تین سینئر اسرائیلی حکام نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات تقریباً 6 گھنٹے جاری رہی اور ایران مذاکرات کا اہم موضوع تھا۔
یہ ملاقات اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ رواں سال مئی میں اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے دعویٰ کیا تھا کہ نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کا خفیہ دورہ کیا اور شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کی، تاہم امارات نے اس وقت ایسی ملاقات کی تردید کی تھی۔
اس وقت ایک ذریعے نے بتایا تھا کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات 26 مارچ کو ابو ظہبی کی ریاست العین میں ہوئی تھی۔
حالیہ دورہ ایک اسرائیلی میڈیا رپورٹ کے چند ہفتے بعد ہوا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ شیخ محمد بن زاید نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے سے قبل نیتن یاہو کو ممکنہ حملے سے خبردار کیا تھا، تاہم نیتن یاہو نے مبینہ وارننگ سکیورٹی اداروں تک نہیں پہنچائی۔ نیتن یاہو اس دعوے کی تردید کرچکے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو اتوار کو متحدہ عرب امارات گئے تاکہ شیخ محمد بن زاید سے اس مبینہ وارننگ کی تردید کرنے کی درخواست کریں۔
دورے کی خبر اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی باضابطہ تصدیق سے پہلے سامنے آنے پر اسرائیلی داخلی سکیورٹی ادارے شن بیت نے ایک ٹی وی چینل کے خلاف شکایت بھی درج کرائی۔
نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ خبر قبل از وقت نشر ہونے سے وزیراعظم، ان کی اہلیہ اور وفد میں شامل موساد کے سربراہ سمیت اعلیٰ سکیورٹی حکام کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی تھیں۔
متحدہ عرب امارات نے 2020 کے ابراہیم معاہدوں کے تحت اسرائیل سے تعلقات قائم کیے تھے۔ ایران جنگ کے دوران حملوں کی زد میں آنے کے بعد امارات نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔
