اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جامع اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے مستقل ارکان کے ویٹو اختیار کے خاتمے کو اصلاحاتی ایجنڈے کا مرکزی نکتہ قرار دیا ہے۔
بلومبرگ میں شائع اپنے مضمون میں اردوان نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ عالمی فیصلہ سازی کا نظام بدلتی ہوئی عالمی حقیقتوں کے مطابق نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ وبائی امراض، توانائی کے بحران، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور علاقائی تنازعات نے ظاہر کردیا ہے کہ عالمی مسائل کے حل کا اختیار چند دارالحکومتوں تک محدود رکھنا مؤثر نہیں۔
اردوان کے مطابق سلامتی کونسل آج بھی دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم کیے گئے عالمی ڈھانچے کی عکاسی کرتی ہے، اس لیے ایک زیادہ مؤثر، منصفانہ اور جوابدہ نظام کی ضرورت ہے۔
ترک صدر طویل عرصے سے ’دنیا پانچ سے بڑی ہے‘ کا نعرہ استعمال کرتے رہے ہیں، جس میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اور ویٹو رکھنے والے ارکان امریکا، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کی جانب اشارہ کیا جاتا ہے۔ ترکیہ سرکاری طور پر بھی سلامتی کونسل کی تشکیل نو اور ویٹو اختیار کے خاتمے کی حمایت کرتا رہا ہے۔
اردوان نے کہا کہ اصلاحات کی ضرورت کو ایک ٹھوس روڈ میپ میں تبدیل کرنا ضروری ہے اور اس روڈ میپ کے مرکز میں ویٹو کے استحقاق کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
ان کے مطابق صرف نئے مستقل ارکان کو شامل کرنا کافی نہیں ہوگا، کیونکہ اس سے فیصلہ سازی کا اختیار بدستور چند ممالک میں مرکوز رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ملک کو مستقل طور پر عالمی برادری کی اکثریت کی خواہش کو روکنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔
ترک صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا کردار بڑھانے کی بھی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کا تصور ختم کرکے ارکان کو جنرل اسمبلی کے ذریعے مخصوص مدت کے لیے منتخب کیا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق دوبارہ مدت کے خواہش مند ممالک کو جنرل اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا، جس سے سلامتی کونسل کی نمائندگی اور جوابدہی بہتر ہوسکتی ہے۔
اردوان نے گزشتہ 25 برس کے دوران سامنے آنے والی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طاقت کا کوئی توازن اور عالمی نظام مستقل نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق ایشیا کی معاشی اہمیت بڑھ رہی ہے جبکہ افریقی ممالک بھی عالمی فیصلہ سازی میں اپنی صلاحیت کے مطابق زیادہ نمائندگی چاہتے ہیں۔
انہوں نے جنگوں، موسمیاتی بحران، غیر قانونی نقل مکانی، اقتصادی کمزوریوں اور توانائی و تجارتی راستوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
اردوان نے عالمی معاشی عدم مساوات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے حقِ ترقی اور ضروری مالی وسائل تک رسائی کو یقینی بنانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ ویٹو کے خاتمے، منتخب ارکان کے کردار میں اضافے اور جنرل اسمبلی کو مضبوط بنانے کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق پائیدار عالمی امن کے لیے مختلف خطوں کے تجربے، صلاحیت اور ارادے کو مشترکہ بنیاد پر اکٹھا کرنا ہوگا۔
