US operation against drug smuggling, alleged Ecuadorian boat targeted

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب نیوزکی خبر  کے مطابق امریکا نے منشیات اسمگلنگ کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران بحرالکاہل میں ایک اور ایکواڈورین کشتی کو تباہ کرکے ڈبو دیا۔ امریکی سدرن کمانڈ کے مطابق کشتی کا تعلق مبینہ طور پر جرائم پیشہ گروپ لاس چونروس سے تھا۔

امریکی حکام کے مطابق مشترکہ ٹاسک فورس نے مشرقی بحرالکاہل میں ایک ایسی تیرتی ہوئی کشتی کو روکا جو مبینہ طور پر سمندر میں منشیات اسمگلنگ کے لیے رسد اور ایندھن فراہم کر رہی تھی۔

کشتی پر موجود افراد کو اتار لیا گیا اور انہیں ایکواڈور کے حکام کے حوالے کیے جانے کا بتایا گیا ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے جاری ویڈیو میں اہلکاروں کو کشتی پر سوار ہوتے، اوپر ہیلی کاپٹر پرواز کرتے اور بعد ازاں ایک پروجیکٹائل کو کشتی سے ٹکراتے دیکھا گیا، جس کے بعد کشتی ڈوب گئی۔

سدرن کمانڈ نے کہا کہ امریکی افواج مغربی نصف کرہ میں منشیات کی اسمگلنگ کو تقویت دینے والے لاجسٹک نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے درست اور پیشہ ورانہ کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

ایکواڈور کی حکومت نے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کشتی کا نام بھی جاری نہیں کیا گیا، تاہم یہ دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں امریکی فورسز کی جانب سے نشانہ بنائی جانے والی پانچویں کشتی ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی کارروائی میں ماہی گیری کی کشتی ماریا کاندیلاریا کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایکواڈور کی بحریہ نے اس کے 26 رکنی عملے کو تلاش کیا، جو اتوار کو مانٹا پہنچا۔ ایک اور کشتی کونکستا ٹو کے 8 ماہی گیر بھی تلاش کیے گئے، تاہم ان کے اہل خانہ نے ان کی صورتحال سے متعلق معلومات کا مطالبہ کیا۔

امریکی حکام کے مطابق او ایم 2 اور لوس ٹریس ہرمینوس سمیت دیگر کشتیوں کو بھی منشیات اسمگلنگ کے لیے تیرتے ہوئے ایندھن اسٹیشنز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

امریکا ان تمام کشتیوں کا تعلق لاس چونروس سے جوڑتا ہے، جسے واشنگٹن غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔

تاہم کارروائیوں پر قانونی حیثیت اور مؤثریت کے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ ایکواڈور کے حکام نے کم از کم ایک واقعے میں کہا کہ ایک زندہ بچ جانے والے شخص کے مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

امریکی حکومت کے مطابق ایک سال سے زائد عرصے کے دوران کیریبین اور بحرالکاہل میں کشتیوں کے خلاف 68 کارروائیوں میں کم از کم 227 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔