Protests over exam paper leaks, Modi announces amnesty for protesters

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی خبر  کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک کے خلاف ہونے والے ملک گیر نوجوانوں کے احتجاج کے دوران اپنے خلاف نعرے بازی اور توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے والے مظاہرین کو معاف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانی میں ہونے والی غلطیوں کا جواب قانونی کارروائی نہیں بلکہ رہنمائی ہونی چاہیے۔

مودی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں بھارت بھر، خصوصاً نئی دہلی سمیت کئی بڑے شہروں میں نوجوانوں نے امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں، پیپر لیکس، بے روزگاری اور حکومتی کارکردگی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ ان مظاہروں کو آن لائن سرگرم گروپ کاکروچ جنتا پارٹی نے منظم کیا، جس نے سوشل میڈیا، بالخصوص انسٹاگرام، کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کو متحرک کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ احتجاج گزشتہ چند برسوں میں مودی حکومت کے لیے عوامی سطح پر سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوا۔

احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر ایسی متعدد ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں بعض مظاہرین وزیر اعظم کے خلاف سخت نعرے بازی اور نازیبا الفاظ استعمال کرتے دکھائی دیے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ان ویڈیوز کے بعد کئی نوجوانوں کو آن لائن شدید تنقید اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بعض کے خلاف پولیس میں مقدمات بھی درج کیے گئے۔ پولیس نے میٹا اور ایکس سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ایسے مواد کو ہٹانے کی بھی درخواست کی جسے حکومت نے توہین آمیز یا گمراہ کن قرار دیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شب اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ پورے ملک اور دنیا نے دیکھا کہ جنتر منتر پر کیا ہوا۔ ان کے بقول بعض شرپسند نوجوانوں نے نہ صرف انہیں بلکہ ان کی مرحوم والدہ کے خلاف بھی ایسے الفاظ استعمال کیے جو کسی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ان نوجوانوں کو معاف کرنا چاہتے ہیں کیونکہ نوجوانی میں غلطیاں ہو جاتی ہیں اور انہیں سزا دینے کے بجائے درست سمت دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

مودی نے واضح کیا کہ نوجوانوں کی توانائی کو مثبت انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ انہیں مایوسی یا نفرت کی طرف دھکیلنے کے بجائے رہنمائی فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں اور ان کے جذبات کو سمجھنا ضروری ہے۔