اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی نئی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ بھارت نے غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کو ہزاروں فوجی کھیپیں فراہم کیں، جو اسرائیلی دفاعی صنعت اور فوجی کارروائیوں کی سپلائی چین کا اہم حصہ بنیں۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 سے نومبر 2025 کے درمیان بھارت سے اسرائیل کو کم از کم 2,596 فوجی کھیپیں منتقل کی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں 564,970 دھماکا خیز گولہ بارود کے پرزے، 390,516 فوجی معیار کے چھوٹے ہتھیاروں کے پرزے اور 298 فوجی گاڑیوں کے پرزے شامل تھے۔
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ بھارت سے فراہم کیے گئے بعض ہتھیاروں میں سکائی سٹرائیکر کامی کازی ڈرونز کے وار ہیڈز بھی شامل تھے، جن سے ملتے جلتے شواہد غزہ کے شہر خان یونس میں ملنے والے ملبے سے سامنے آئے۔
تنظیم نے واضح کیا کہ اس کی تحقیق انتہائی محتاط طریقہ کار کے تحت تیار کی گئی ہے اور اس میں ڈوئل یوز اشیا، میزائل دفاعی نظام اور غیر تصدیق شدہ مصنوعات کو شامل نہیں کیا گیا، اس لیے اسرائیل کو بھارتی دفاعی سامان کی اصل مقدار اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل ایگنیس کالامارڈ نے کہا کہ غزہ میں ممکنہ نسل کشی کے خطرے سے متعلق بین الاقوامی عدالت انصاف کے عبوری احکامات کے بعد بھی بھارت کی جانب سے اسلحہ برآمدات جاری رکھنا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں میں معاون بن سکتا ہے۔
رپورٹ میں اسرائیل کی بڑی دفاعی کمپنیوںایلبٹ سسٹمز، اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز اور رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جبکہ بھارتی کمپنی اڈانی ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس سمیت دیگر اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ایمنسٹی نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اسلحہ، گولہ بارود اور فوجی پرزوں کی فراہمی فوری طور پر بند کرے، دوہرے استعمال والے سامان کی برآمدات پر بھی پابندی عائد کرے اور ایسی تمام تجارتی شراکت داریاں ختم کرے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں میں معاون بن سکتی ہیں۔
دوسری جانب بھارتی حکومت اس سے قبل متعدد بار واضح کر چکی ہے کہ اس کی دفاعی برآمدات ملکی مفادات اور قومی سلامتی کی پالیسی کے مطابق کی جاتی ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون نئی دہلی کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کا حصہ ہے، جبکہ بھارتی سپریم کورٹ بھی اس معاملے میں حکومت کی پالیسی میں مداخلت سے انکار کر چکی ہے۔
