اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) جرمن سرکاری نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے جوہری پروگرام اور داخلی سلامتی سے متعلق حالیہ دستاویزی فلم پر پاکستان میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اسٹریٹجک امور کی ماہر ڈاکٹر رابعہ اختر اور سیاسی تجزیہ کار اشتیاق احمد نے الگ الگ بیانات میں دستاویزی فلم کو جانبدارانہ، گمراہ کن اور پہلے سے طے شدہ بیانیے پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس میں پیش کیے گئے متعدد دعوؤں کو چیلنج کیا ہے۔
ڈاکٹر رابعہ اختر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک طویل پوسٹ میں لکھا کہ اگر ڈی ڈبلیو کا مقصد صرف توجہ حاصل کرنا تھا تو اسے اس کے لیے حقائق کو مسخ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کے مطابق دستاویزی فلم میں پہلے نتیجہ اخذ کیا گیا اور بعد ازاں پاکستان سے متعلق مناظر، بیانات اور حوالوں کو اسی بیانیے کے مطابق ترتیب دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ فلم میں ایک مذہبی رہنما، جوہری تنصیبات، سنسنی خیز موسیقی اور عدم استحکام کے مناظر کو اس انداز میں جوڑا گیا کہ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے یہ تاثر پیدا کیا جائے کہ پاکستان کے جوہری اثاثے خطرے میں ہیں۔ ان کے بقول یہ صحافتی تحقیق سے زیادہ تاثر سازی محسوس ہوتی ہے۔
ڈاکٹر رابعہ اختر نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو غیرقانونی قرار دینے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کبھی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا رکن نہیں رہا، اس لیے این پی ٹی کی خلاف ورزی کا الزام قانونی بنیاد نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق کسی ملک کے جوہری پروگرام سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے غیرقانونی قرار دینے کے لیے بین الاقوامی قانونی جواز بھی ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دستاویزی فلم میں بھارت اور پاکستان کے جوہری پروگراموں کے لیے مختلف معیار اختیار کیا گیا۔ ان کے مطابق بھارت کے پروگرام کو ایک اسٹریٹجک حقیقت جبکہ پاکستان کے پروگرام کو دھوکے اور خفیہ سرگرمیوں کے تناظر میں پیش کیا گیا، جو رپورٹنگ کے غیر متوازن انداز کی عکاسی کرتا ہے۔
رابعہ اختر کے مطابق دستاویزی فلم میں یہ تاثر بھی دیا گیا کہ شدت پسند عناصر پاکستان کے جوہری اثاثوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، حالانکہ اس حوالے سے کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ فلم میں شامل بعض ماہرین خود پاکستان کے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ، اسٹریٹجک پلانز ڈویژن ، مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور متعدد حفاظتی حصاروں کا اعتراف کرتے ہیں، مگر ان حقائق کو نمایاں کرنے کے بجائے خدشات کو زیادہ جگہ دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ فلم میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ماضی کے کیس کو موجودہ جوہری سکیورٹی کے خلاف دلیل کے طور پر استعمال کیا گیا، جبکہ پاکستان کے موجودہ حفاظتی نظام، ادارہ جاتی اصلاحات اور بین الاقوامی معیار کے مطابق سکیورٹی انتظامات کا متوازن جائزہ پیش نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب تجزیہ کار اشتیاق احمد نے بھی ڈی ڈبلیو کی دستاویزی فلم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ مغربی نیوکنزرویٹو اور اسرائیل نواز حلقوں کے اس بیانیے کو تقویت دیتی ہے جو کئی دہائیوں سے پاکستان کے جوہری پروگرام کو متنازع بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
اشتیاق احمد نے اپنے ٹوئیٹ کہا کہ پاکستان نے اپنا جوہری پروگرام کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہیں بنایا، کیونکہ وہ کبھی این پی ٹی کا رکن نہیں رہا۔ ان کے مطابق پاکستان کا جوہری پروگرام بھارت کے 1974 کے ایٹمی تجربے کے بعد پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال کا براہِ راست جواب تھا، جبکہ جنوبی ایشیا کو جوہری خطہ بنانے کی ابتدا بھی بھارت نے ہی کی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ بھارت کی ہندوتوا قیادت والی بی جے پی حکومت نے مئی 1998 میں اپنے انتخابی منشور کے مطابق ایٹمی دھماکے کیے، جس کے بعد پاکستان نے اپنے دفاع اور خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے جوابی ایٹمی تجربات کیے۔ ان کے بقول اگر جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے آغاز کی ذمہ داری کسی پر عائد ہوتی ہے تو وہ پاکستان نہیں بلکہ بھارت ہے۔
اشتیاق احمد نے مزید کہا کہ مغربی دنیا کے بعض حلقے آج بھی اس حقیقت کو قبول نہیں کر سکے کہ ایک مسلم ریاست نے مؤثر جوہری دفاعی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ ان کے مطابق اسی سوچ کے تحت ماضی میں پاکستان کے پروگرام کو "اسلامی بم” قرار دے کر متنازع بنانے کی کوشش کی گئی، جبکہ دیگر ممالک کے جوہری پروگراموں کے لیے کبھی ایسی اصطلاحات استعمال نہیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی دستاویزی فلمیں زمینی حقائق تبدیل نہیں کر سکتیں۔ ان کے مطابق پاکستان نہ صرف ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے بلکہ حالیہ برسوں میں اس نے خطے میں اہم سفارتی کردار بھی ادا کیا ہے، جس کی مثال امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اسلام آباد کی ثالثی کی کوششیں ہیں۔
