اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی حملے میں شمالی ایران کے شہر زیباکنار میں واقع پاسدارانِ انقلاب کے بحری ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی کارروائی میں تعاون کرنے والے کسی بھی ملک کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق صوبہ گیلان کے ساحلی علاقے میں قائم حضرت سید الشہداء ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں فوری طور پر کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں شریک یا معاون ممالک بین الاقوامی ذمہ داری کے حامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔
عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا، جس میں ٹرمپ نے بحری جہازوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا ازالہ ایران کے منجمد اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ کسی ملک کے منجمد اثاثے ضبط کرنا ایک خطرناک نظیر قائم کرے گا، جس سے عالمی مالیاتی نظام عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئربیس اور اردن کے الازرق ایئربیس میں امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں ایندھن کے ذخائر، ہینگرز، فوجی سازوسامان اور رہائشی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا، تاہم امریکا، بحرین اور اردن کی جانب سے ان حملوں کی باضابطہ تصدیق یا کسی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کی جانب سے سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد ایران اور حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے حملے دوبارہ ہوئے تو امریکا ایران کو براہِ راست ذمہ دار سمجھے گا۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی آپریشن پر بھی غور کر رہے ہیں۔
