اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) اور انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس ایف آئی ڈی ایچ کی مشترکہ رپورٹ نے پاکستان کے نظامِ انصاف سے متعلق نہایت سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عدالتی نظام میں بدعنوانی اب محض چند افراد تک محدود مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ مختلف سطحوں پر اس انداز سے سرایت کر چکی ہے کہ اس نے انصاف کی فراہمی، عدلیہ کی آزادی اور عوامی اعتماد کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
وکلاء، سابق ججوں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس میں مقدمات کے اندراج، تفتیش کو آگے بڑھانے، عدالتی ریکارڈ کے حصول اور مقدمات کی جلد سماعت جیسے مراحل میں رشوت اور غیر شفاف طریقہ کار کی شکایات عام ہیں۔ مقدمات کے بڑھتے ہوئے بوجھ، پیچیدہ قانونی طریقہ کار اور غیر مؤثر انتظامی نظام نے ایسے رجحانات کو مزید تقویت دی ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
رپورٹ میں اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ عدالتی نظام میں میرٹ کے بجائے بعض اوقات ذاتی تعلقات، خاندانی روابط اور پیشہ ورانہ وابستگیوں کو فوقیت دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ عدالتی تقرریوں اور برطرفیوں سے متعلق حالیہ آئینی ترامیم، خصوصاً چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم، کے بعد عدلیہ کی خودمختاری کے حوالے سے بھی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طاقتور اداروں کی مبینہ مداخلت کے تاثر نے بھی عدالتی آزادی اور غیر جانبداری پر عوامی اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
رپورٹ کا مؤقف ہے کہ اگر بدعنوانی اسی انداز میں برقرار رہی تو اسے انفرادی بے ضابطگی کے بجائے ایک منظم اور نظامی مسئلہ تصور کیا جائے گا، جس کے اثرات قانون کی حکمرانی، بنیادی انسانی حقوق اور انصاف کی فراہمی پر براہِ راست مرتب ہوں گے۔
رپورٹ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ عدالتی بدعنوانی صرف رشوت تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق عوام کے اس بنیادی اعتماد سے ہے کہ آیا عدالتیں ہر شہری کو بلاامتیاز انصاف فراہم کر رہی ہیں یا نہیں۔ جب مقدمات میں غیر ضروری تاخیر ہو، فیصلوں پر اثرانداز ہونے کے خدشات جنم لیں یا بااثر افراد کو ترجیح ملنے کا تاثر پیدا ہو تو انصاف کا پورا نظام عوام کی نظروں میں کمزور پڑ جاتا ہے، جبکہ سب سے زیادہ متاثر وہ طبقہ ہوتا ہے جو پہلے ہی معاشی اور سماجی طور پر کمزور ہو۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ عدالتی بدعنوانی کی شکایات کی تحقیقات کے لیے موجود نظام خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام رہا ہے، جبکہ بدعنوانی کی نشاندہی کرنے والے افراد کو مؤثر قانونی تحفظ نہ ہونے کے باعث بہت سے معاملات منظرِ عام پر ہی نہیں آ پاتے۔
رپورٹ میں متعدد اصلاحات کی سفارش کی گئی ہے، جن میں مقدمات کی تقسیم کے لیے شفاف نظام، عدالتی فیسوں اور سماعتوں کا شیڈول آن لائن دستیاب کرنا، ججوں کے اثاثوں کا باقاعدہ اعلان، شکایات کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات، اور بدعنوانی بے نقاب کرنے والے افراد کو قانونی تحفظ فراہم کرنا شامل ہیں۔ اگرچہ بعض آئینی ترامیم سے متعلق سفارشات پر مختلف آراء سامنے آ سکتی ہیں، تاہم شفافیت، احتساب اور ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے پیش کی گئی تجاویز وسیع حمایت حاصل کر سکتی ہیں۔
اداریے کے مطابق نظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد صرف اعلانات یا وعدوں سے بحال نہیں ہوگا۔ حقیقی تبدیلی اسی وقت آئے گی جب ہر شہری کو یہ یقین ہو کہ عدالتوں میں فیصلے دولت، اثر و رسوخ یا سیاسی دباؤ کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف آئین، قانون اور انصاف کے اصولوں کے مطابق کیے جاتے ہیں۔
