Constitutional Court's major decision Demolition of Monal Restaurant declared illegal, case returned for retrial

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈیلی اسلامآباد پوسٹ کی خبر کے مطابق  آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں اسلام آباد کے معروف مونال ریسٹورنٹ کی مسماری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کیس ازسرنو سماعت کے لیے متعلقہ نچلی عدالت کو واپس بھیج دیا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ مقدمے کا فیصلہ تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے صرف میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے۔

جسٹس اظہر حسن رضوی کی سربراہی میں قائم آئینی بینچ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ، جس کے تحت مونال ریسٹورنٹ اور مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں قائم دیگر تجارتی مراکز کو بند اور مسمار کرنے کا حکم دیا گیا تھا، قدرتی انصاف اور قانونی طریقہ کار کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں آبزرویشن دی کہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران متاثرہ فریقین کو مؤثر انداز میں اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم نہیں کیا گیا، جبکہ اتنے اہم نوعیت کے مقدمے میں منصفانہ سماعت ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے۔ آئینی بینچ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مونال انتظامیہ کو اپیل کا مؤثر حق بھی میسر نہیں آیا، جو کسی بھی جمہوری عدالتی نظام کا بنیادی تقاضا ہے۔

یہ مقدمہ اس وقت منظرعام پر آیا تھا جب اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں قائم مونال ریسٹورنٹ سمیت متعدد ریسٹورنٹس اور تجارتی عمارتوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری بندش اور مسماری کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے اس فیصلے کو ماحولیاتی تحفظ اور قومی پارک کی قدرتی حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیا تھا۔

تاہم مونال ریسٹورنٹ کی مسماری کے بعد اس فیصلے پر ملک بھر میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ سیاحتی، کاروباری اور ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ حلقوں کا مؤقف تھا کہ اسلام آباد کی پہچان بن چکا یہ ریسٹورنٹ برسوں سے ملکی و غیر ملکی سیاحوں، سفارت کاروں اور سرکاری مہمانوں کی میزبانی کرتا رہا ہے، اس لیے مکمل مسماری کے بجائے ایسا قانونی اور ماحولیاتی حل نکالا جا سکتا تھا جس سے ماحول کا تحفظ بھی ممکن رہتا اور سینکڑوں افراد کا روزگار بھی متاثر نہ ہوتا۔

آئینی عدالت کے حالیہ فیصلے کو دارالحکومت کے کاروباری اور سیاحتی حلقوں نے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی متعدد صارفین نے اسے قانونی عمل، منصفانہ سماعت اور شہری حقوق کے حوالے سے مثبت قدم قرار دیتے ہوئے خیر مقدم کیا۔