Magnificent tributes paid to Ayatollah Ali Khamenei in Najaf and Karbala, millions of mourners attend funerals

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون  کی خبر کے مطابق ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے سلسلے میں عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں بدھ کے روز لاکھوں عزادار جمع ہوئے، جہاں انہیں مذہبی عقیدت اور احترام کے ساتھ خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

اے ایف پی کے مطابق عراق کے شہر نجف میں واقع حضرت امام علیؑ کے روضۂ مبارک پر خامنہ ای کے تابوت کو جلوس کی صورت میں لایا گیا، جہاں ہزاروں سوگواروں نے تابوت کو کندھوں پر اٹھایا۔ اس دوران عقیدت مند تابوت کو چھونے اور آخری دیدار کرنے کے لیے بڑی تعداد میں آگے بڑھتے رہے، جس کے باعث پورا احاطہ سوگواروں سے بھر گیا۔

دوسری جانب مقدس شہر کربلا میں بھی بڑی تعداد میں افراد سڑکوں پر جمع ہوئے۔ شرکا نے ایرانی پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ کئی افراد آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر بھی اپنے ہاتھوں میں لیے ہوئے تھے۔ تابوت کی آمد سے قبل مرکزی جلوس کے راستوں پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔

ایران نے 5 جولائی سے آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا چھ روزہ سلسلہ شروع کیا تھا، جس کا مقصد ان کی سیاسی، مذہبی اور نظریاتی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف شہروں میں تعزیتی اجتماعات، جلوس اور مذہبی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔

عراقی مرحلہ ان آخری رسومات کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ عراق بالخصوص نجف اور کربلا شیعہ مسلمانوں کے اہم ترین مذہبی مراکز شمار ہوتے ہیں اور تہران و بغداد کے درمیان گہرے مذہبی اور سیاسی تعلقات بھی موجود ہیں۔

اس سے قبل تابوت کو تہران اور ایران کے مقدس شہر قم میں بھی عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا تھا، جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

سرکاری پروگرام کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین جمعرات کو ان کے آبائی شہر مشہد میں کی جائے گی، جہاں آخری مرحلے کی مذہبی تقریبات اور تدفین کی جائے گی۔