Two strong earthquakes wreak havoc in Venezuela, rescue operations underway, thousands feared buried under rubble

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون  کی خبر کے مطابق وینزویلا میں آنے والے دو انتہائی طاقتور زلزلوں نے ملک بھر میں وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جبکہ حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 235 ہو گئی ہے۔ ہزاروں افراد زخمی ہیں اور دسیوں ہزار شہریوں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اموات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق بدھ کی شام دارالحکومت کاراکاس سے تقریباً 160 کلومیٹر مغرب میں پہلے 7.2 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے صرف چند لمحوں بعد 7.5 شدت کا دوسرا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ 1900 کے بعد وینزویلا کا طاقتور ترین زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

سب سے زیادہ نقصان لا گوائرا اور کاراکاس کے گردونواح میں ہوا، جہاں سیکڑوں عمارتیں زمین بوس یا شدید متاثر ہو گئیں۔ حکام کے مطابق اب تک 250 سے زائد عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ 4,300 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ امدادی ادارے ملبے تلے دبے سینکڑوں افراد کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں بھاری مشینری نہ ہونے کے باعث لوگ اپنے پیاروں کو ملبے سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ متعدد متاثرین نے خوراک، صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت کی شکایت بھی کی ہے۔

زلزلے کے نتیجے میں کاراکاس کا مرکزی ہوائی اڈہ بھی متاثر ہوا، جس کے باعث پروازیں معطل کر دی گئیں۔ کئی علاقوں میں بجلی اور پانی کی فراہمی بند ہے جبکہ اسکول بھی عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ اگرچہ تیل کی زیادہ تر تنصیبات محفوظ رہی ہیں، تاہم بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان امدادی سرگرمیوں میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔

لاپتا افراد کی معلومات جمع کرنے والی ایک عوامی ویب سائٹ پر 46 ہزار سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات درج کی گئی ہیں، تاہم ان تمام رپورٹس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ امریکی جیولوجیکل سروے نے اپنی ابتدائی پیش گوئی میں خبردار کیا ہے کہ حتمی ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے۔

اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے فوری امداد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بین الاقوامی ریسکیو ٹیموں کی تعیناتی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے 

ادھر امریکہ، روس اور متعدد دیگر ممالک نے وینزویلا کو امداد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ 

صدر ڈیلسی روڈریگیز نے قوم سے اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، جبکہ بین الاقوامی تعاون سے ریسکیو آپریشن کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔