اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان آج ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حالیہ ایران-امریکا کشیدگی میں کمی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد خطے میں نئی سفارتی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق صدر پزشکیان کے ہمراہ وزرا اور اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی پاکستان آئے گا۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، سرحدی تعاون، علاقائی رابطہ کاری اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پاکستان اور ایران کے رہنما حالیہ علاقائی صورتحال، ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات، مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق امور پر بھی گفتگو کریں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایرانی صدر اس موقع پر پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ایران-امریکا مذاکرات میں کردار پر تہران کی جانب سے شکریہ بھی ادا کریں گے۔ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں قطر کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ صدر پزشکیان کا منصب سنبھالنے کے بعد پاکستان کا دوسرا دورہ اور ایران پر جنگ کے آغاز کے بعد پہلا غیر ملکی دورہ ہوگا، جسے دونوں ممالک کے تعلقات کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں غیر ملکی وفود کی آمد کے پیش نظر اسلام آباد ٹریفک پولیس نے خصوصی ٹریفک پلان جاری کر دیا ہے۔ ریڈ زون کے متعدد داخلی راستے عارضی طور پر بند رہیں گے جبکہ شہریوں کو متبادل راستے استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
