اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں اور پاکستان کے حصے کے دریاؤں پر بھارت کے متنازع منصوبوں کا نوٹس لے۔
پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ سفیر آصف افتخار احمد نے سلامتی کونسل کی صدر اور کولمبیا کی سفیر لیونور زالباتا ٹوریس کو اسحاق ڈار کا خط پہنچایا۔ خط میں دریائے چناب کے نظام سے متعلق دو بھارتی انفراسٹرکچر منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ منصوبے مغربی دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو تبدیل کرنے اور پانی کے استعمال کے طریقہ کار کو یکطرفہ طور پر بدلنے کی کوشش ہیں۔
سفیر آصف افتخار احمد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ پاکستان نے سلامتی کونسل کی توجہ اس امر کی جانب دلائی ہے کہ بھارت پانی کو بطور دباؤ استعمال کرنے کی پالیسی اختیار کر رہا ہے، جس کے پاکستان کی پانی، خوراک اور معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل کو جنوبی ایشیا کی مجموعی صورتحال اور مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر بھارت کی مسلسل عدم عملداری سے بھی آگاہ کیا۔
گزشتہ روز نائب وزیراعظم نے کہا تھا کہ دریائے سندھ کے نظام سے متعلق بھارت کے کم از کم 17 منصوبے ایسے ہیں جو نئی دہلی کو ہائیڈرو ہیجمنی یا آبی بالادستی کے ذرائع فراہم کر سکتے ہیں۔
پاکستان نے بھارت کے مجوزہ چناب۔بیاس لنک پراجیکٹ پر بھی شدید اعتراض اٹھایا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 26.2 ارب بھارتی روپے لاگت کے اس منصوبے پر یکم اگست سے کام شروع کیا جا سکتا ہے، جس کے تحت سالانہ 1.9 ملین ایکڑ فٹ پانی دریائے چناب سے دریائے بیاس منتقل کرنے کی تجویز ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق ایک دریا کے پانی کو دوسرے آبی نظام میں منتقل کرنا سندھ طاس معاہدے، ویانا کنونشن برائے معاہدات اور بین الاقوامی آبی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں سالال ڈیم پر مجوزہ سلٹ فلشنگ منصوبے پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بھارت کو پانی کے بہاؤ پر ایسا کنٹرول حاصل ہو سکتا ہے جو سندھ طاس معاہدے اور 1978 کے سالال معاہدے کے منافی ہے۔
اسلام آباد نے خبردار کیا ہے کہ اگر دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے یا پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کے امن اور استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔
