اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان 81ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہوگئے، جہاں ایرانی قیادت نے ملک کا مؤقف عالمی فورمز پر بھرپور انداز میں پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی صدر کے مطابق وفد ایرانی عوام کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتیوں، حالیہ واقعات اور پیدا ہونے والے عدم اعتماد کا معاملہ اٹھائے گا۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ ایران اپنے عوام کے حقوق اور مفادات کے ساتھ اپنی قانونی پوزیشن اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے پیش کرے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا الزام ایران پر منتقل کرنے کی کوشش کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ عوام نہیں بھولیں گے کہ مبینہ جنگی بحران کس کے اقدامات سے پیدا ہوا۔
دوسری جانب حوثی وابستہ صبا نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی عرب کے فضائی حملوں میں بحیرہ احمر کے ساحلی شہر المخا میں 6 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوئے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
جی 7 کے وزرائے خارجہ نے ایران سے حوثیوں کو اسلحہ اور حمایت فراہم کرنا بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حملوں سے عالمی تجارت اور استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔
امریکا نے خلیجی توانائی تنصیبات کی بحالی اور آبنائے ہرمز کے متبادل برآمدی راستوں کے لیے 5 ارب ڈالر کے فنڈ کی تجویز دی ہے، جبکہ آٹھ علاقائی ممالک سے مزید 5 ارب ڈالر کی شراکت کی بات کی گئی ہے۔ منصوبے کو پارٹنرشپ فار الائیڈ ٹرسٹ اینڈ کنسٹرکشن کا نام دیا گیا ہے۔
فرانس بھی آبنائے ہرمز میں آزادیٔ نقل و حرکت یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نئی قرارداد پر کام کر رہا ہے۔ فرانس نے پاکستان کی ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششوں کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔
ادھر یورپی یونین کی بحری مشن ایسپائڈز کے لیے مزید جنگی جہازوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، جبکہ برطانیہ نے سعودی عرب کی درخواست پر محدود مدت کے لیے دفاعی فضائی ری فیولنگ فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
