Disagreement over labeling Arab voters a security threat; Attorney General rejects intelligence chief's demand.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل کی داخلی انٹیلی جنس ایجنسی شن بیٹ کے سربراہ ڈیوڈ زینی نے مبینہ غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات کے سلسلے میں تین عرب سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے پوچھ گچھ کی کوشش کی، تاہم اٹارنی جنرل نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اعتراض اٹھا دیا ہے۔

 اسرائیلی نشریاتی ادارے کان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے حکام کو ان رہنماؤں سے بطور مشتبہ افراد پوچھ گچھ کے لیے کافی شواہد نہیں ملے تھے۔

کان نے جن رہنماؤں کے نام بتائے ان میں یونائیٹڈ عرب لسٹ (رعام) کے منصور عباس، عرب موومنٹ فار چینج (تعال) کے احمد طیبی اور بلد پارٹی کے سامی ابو شہادہ شامل ہیں۔

 نشریاتی ادارے کے مطابق تحقیقات کے دوران ایک چوتھے سیاست دان، جو کنیسٹ کے رکن ہیں، سے متعلق معلومات بھی سامنے آئی تھیں۔

اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق اٹارنی جنرل گالی بہاراوی میارا نے اتوار کو مرکزی انتخابی کمیٹی کے سربراہ جج نوام سولبرگ سے ملاقات میں پوری تحقیقات کو سکیورٹی کیس قرار دینے کی زینی کی درخواست مسترد کر دی۔

 ایسی درجہ بندی کی صورت میں شن بیٹ کو مشتبہ افراد کی وکلا تک رسائی محدود کرنے، فون ٹیپ کرنے اور مواصلاتی ڈیٹا جمع کرنے جیسے وسیع اختیارات حاصل ہو سکتے تھے۔

اٹارنی جنرل نے اس درخواست کو غیر قانونی قرار دیا، جبکہ جج سولبرگ نے یہ تسلیم کرنے کی تجویز دی کہ معاملے میں سکیورٹی کا پہلو بھی ہو سکتا ہے۔

 بہاراوی میارا نے منگل کو اپنے بیان میں کہا کہ کسی شہری یا منتخب نمائندے سے بطور مشتبہ شخص پوچھ گچھ کے لیے ٹھوس شواہد ضروری ہیں۔ ان کے مطابق شن بیٹ یا کوئی دوسرا ادارہ ایسے شواہد فراہم کر سکتا ہے جو پوچھ گچھ کا جواز بنیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شن بیٹ دو روز گزرنے کے باوجود جمع کیا گیا مواد خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے حوالے نہیں کر سکی، جس سے کارروائی میں تاخیر ہوئی۔

وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے اٹارنی جنرل پر تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا اور جج سولبرگ سے معاملے کی وضاحت عوام کے سامنے کرنے کا مطالبہ کیا۔

 دوسری جانب جوائنٹ لسٹ نے شن بیٹ سربراہ اور نیتن یاہو کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں عرب شہریوں کے ووٹ کو سکیورٹی خطرہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اتحاد کے مطابق عرب ووٹرز کو اپنا سیاسی مستقبل طے کرنے کے لیے نیتن یاہو یا شن بیٹ کی اجازت درکار نہیں۔

اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ نے بھی سکیورٹی اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے خلاف خبردار کیا۔ انہوں نے نیتن یاہو اور لیکوڈ پر انتخابی نتائج پر عوامی اعتماد کمزور کرنے کی کوشش کا الزام لگایا، کیونکہ ان کا اتحاد پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

لیکوڈ نے قطر پر عرب ووٹرز کی شرکت بڑھانے اور انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کے لیے مالی معاونت کا الزام لگایا، تاہم اس حوالے سے کوئی عوامی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ قطر نے الزام مسترد کرتے ہوئے اسے اسرائیل کے داخلی سیاسی تنازع میں اسے گھسیٹنے کی گمراہ کن مہم قرار دیا۔

جج سولبرگ نے کہا کہ اسرائیلی قانون کے تحت حتمی انتخابی نتائج بدھ کو جاری کرنا لازم ہے اور کسی کو انہیں روکنے کا اختیار نہیں۔ نتائج صدر اسحاق ہرزوگ کو پیش کیے جائیں گے، جن کی جانب سے حکومت سازی کے لیے جماعتوں سے مشاورت شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ 120 رکنی کنیسٹ میں نیتن یاہو کے اتحاد کو 53، اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں ملیں، جبکہ جوائنٹ لسٹ نے 11 اور رعام نے 8 نشستیں حاصل کیں۔ دونوں عرب جماعتوں کی مجموعی 19 نشستیں ہیں، تاہم کوئی بھی اتحاد حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔