اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں اور مختلف ریاستوں میں گورنر کے عہدوں پر کامیابیاں حاصل کرکے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی پالیسیوں کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
انتخابی نتائج کو ڈیموکریٹس کی غیر معمولی واپسی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ووٹرز کی بڑی تعداد، ریکارڈ انتخابی اخراجات اور کئی دہائیوں بعد حاصل ہونے والی کامیابیوں نے اس انتخابی معرکے کو تاریخی بنا دیا۔
یونیورسٹی آف فلوریڈا کی الیکشن لیب کے مطابق انتخابات کے دن سے پہلے ہی 6 کروڑ 17 لاکھ سے زیادہ امریکی ووٹ ڈال چکے تھے۔ یہ وسط مدتی انتخابات میں قبل از وقت ووٹنگ کا ریکارڈ تھا۔
روایتی طور پر ڈیموکریٹ ووٹرز قبل از وقت ووٹ ڈالنے میں زیادہ سرگرم رہتے ہیں۔ نیشنل پبلک ریڈیو کے مطابق افریقی نژاد امریکیوں، نوجوانوں اور ڈیموکریٹس کے حامی دیگر گروہوں میں بھی ووٹنگ کی شرح نمایاں رہی۔
غیر جماعتی ادارے اوپن سیکرٹس کے مطابق 2026 کے انتخابات پر مجموعی اخراجات ریکارڈ 11.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو 2022 کے 8.9 ارب ڈالر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔
انتخابی مہم میں بیرونی سیاسی کمیٹیوں کی مالی معاونت بھی نمایاں رہی۔ صدر ٹرمپ کے ارب پتی اتحادی ایلون مسک کی حمایت سے ری پبلکنز کو بیرونی ذرائع سے تقریباً 360 ملین ڈالر کا فائدہ پہنچا، تاہم ڈیموکریٹ امیدواروں نے بھی بھاری فنڈز جمع کیے۔
اوپن سیکرٹس کے مطابق ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے امیدواروں نے اپنی انتخابی مہمات پر ریکارڈ 3.7 ارب ڈالر خرچ کیے، جبکہ ڈیموکریٹس نے ری پبلکنز کے مقابلے میں 800 ملین ڈالر زیادہ خرچ کیے۔ ٹیکساس میں ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو نے 145 ملین ڈالر جمع کیے، جو ان کے ری پبلکن حریف کین پیکسٹن کے 22 ملین ڈالر سے کئی گنا زیادہ تھے۔
کامیابیوں میں کنساس کی سینیٹ نشست خاص اہمیت رکھتی ہے، جہاں 94 سال بعد پہلی مرتبہ کسی ڈیموکریٹ نے کامیابی حاصل کی۔
ایڈم ہیملٹن نے ری پبلکن سینیٹر راجر مارشل کو شکست دی۔ ہیملٹن میتھوڈسٹ میگا چرچ کے پادری ہیں اور کچھ عرصہ پہلے تک ری پبلکن کے طور پر رجسٹرڈ تھے۔
ٹیکساس میں جیمز ٹالاریکو نے 1988 کے بعد پہلی مرتبہ ڈیموکریٹس کو سینیٹ کی نشست دلا دی۔
جنوبی کیرولائنا میں بھی ڈیموکریٹ اینی اینڈریوز نے سینیٹر ڈارلین گراہم کو شکست دی۔ اس ریاست سے آخری بار 1998 میں کوئی ڈیموکریٹ سینیٹ کے لیے منتخب ہوا تھا۔
انتخابی جائزوں کے مطابق نوجوان مردوں اور لاطینی ووٹرز نے بھی ٹرمپ اور ری پبلکنز سے اپنی حمایت بڑی حد تک واپس لے لی۔ این بی سی نیوز کے ایگزٹ پولز میں لاطینی ووٹرز نے 62 فیصد کے مقابلے میں 35 فیصد کے تناسب سے ڈیموکریٹس کی حمایت کی۔
18 سے 29 سال کے مرد اور خواتین ووٹرز میں ڈیموکریٹس کو 72 فیصد جبکہ ری پبلکنز کو 25 فیصد حمایت ملی۔ یہ رجحان 2024 کے صدارتی انتخابات کے مقابلے میں نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
