اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر میں دو سعودی تیل بردار جہازوں کو میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران پر مسلسل بارہویں روز بھی فضائی حملے جاری رکھے، جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
حوثیوں نے چند روز قبل سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا اور اب دعویٰ کیا ہے کہ اسی مہم کے تحت اینسیلیا اور لیلیٰ نامی سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اینسیلیا پر حملے کے نتیجے میں جہاز کے اگلے حصے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم لیلیٰ پر حملے کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
بحری سلامتی سے وابستہ ذرائع کے مطابق اینسیلیا نے سعودی بندرگاہ جازان کے قریب میزائل حملے کے بعد ہنگامی امداد کی درخواست بھی جاری کی۔ اسی دوران شپنگ ڈیٹا کے مطابق پانچ آئل ٹینکروں نے باب المندب کے راستے سے گزرنے کے بجائے اپنا راستہ تبدیل کر لیا، جبکہ چین اور بھارت کے لیے سعودی تیل لے جانے والے تین بڑے جہاز بھی واپس مڑ گئے۔
ادھر امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران میں مزید اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں صوبہ بوشہر کے قریب فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ شلمچہ بارڈر کراسنگ پر میزائل حملے میں دو افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملے جاری رہے تو امریکا ایران کے بجلی گھروں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس کے جواب میں ایران کی مشترکہ فوجی کمان نے کہا ہے کہ اگر ایرانی تنصیبات پر حملے کیے گئے تو خطے میں تیل، گیس، بجلی اور اقتصادی انفراسٹرکچر محفوظ نہیں رہے گا اور تیل کا ایک قطرہ بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں اب تک 53 شہری جاں بحق اور 592 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق جنگ کے دوران 18 امریکی فوجی ہلاک اور 450 سے زائد اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتا، تاہم دونوں جانب سے جاری عسکری کارروائیوں نے پورے خطے میں ایک نئے اور وسیع بحران کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
