اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق یمن کی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ حوثی باغی بحیرہ احمر میں وہی حکمت عملی اپنانا چاہتے ہیں جو ایران آبنائے ہرمز میں اختیار کیے ہوئے ہے۔ یمن کے نامزد وزیر خارجہ افرح الزوبہ نے کہا کہ حوثی ایران کی علاقائی پالیسی سے مکمل ہم آہنگ ہیں اور سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مثبت مذاکرات جاری ہیں اور معاہدے کے امکانات موجود ہیں، تاہم اگر سفارت کاری کامیاب نہ ہوئی تو امریکی حملے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔ ادھر ایران نے واضح کیا ہے کہ اس نے مذاکرات کی درخواست نہیں کی، تاہم ثالثوں کے ذریعے رابطے برقرار ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک امریکی حملے معطل رہیں گے، ایران بھی اپنی کارروائیاں روکنے پر قائم رہے گا۔
اس دوران سعودی عرب نے دعویٰ کیا کہ اس نے ریاض سمیت تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ڈرون مار گرائے، جنہیں عراق میں موجود ایران نواز گروپوں نے داغا تھا۔ دوسری طرف یمن میں حوثیوں نے سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے سعودی ڈرون کارروائیوں کا جواب قرار دیا۔ ایران نے بھی ایک بار پھر آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کا اعادہ کیا، جبکہ سرکاری میڈیا کے مطابق چھ غیر مجاز جہازوں کو واپس بھیج دیا گیا۔
ادھر خطے میں کشیدگی میں وقتی کمی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی نیچے آ گئیں۔ برینٹ کروڈ تقریباً 1.66 فیصد کمی کے بعد 86.89 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 1.76 فیصد کمی کے ساتھ 81.16 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی ایران کی سمندری دفاعی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کی چھوٹی مگر جدید ہتھیاروں سے لیس بحریہ جدید جنگی حکمت عملی کی ایک اہم مثال بن چکی ہے۔
