Russia seeks to establish a 660-kilometer-long security zone; claims control over 70 percent of the area.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس یوکرین کے ساتھ اپنی سرحد کے قریب یوکرینی علاقے میں ایک سکیورٹی زون قائم کر رہا ہے اور مستقبل میں کیف کے ساتھ امن مذاکرات میں اس معاملے پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

جمعے کو ایک فوجی کمانڈ پوسٹ کے دورے کے موقع پر فوجی وردی میں گفتگو کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ روسی افواج کو نہ صرف روسی علاقے سے دشمن کو نکالنے بلکہ ملحقہ یوکرینی علاقے میں حفاظتی زون قائم کرنے کا بھی ہدف دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی کامیابی سے جاری ہے۔

پیوٹن نے کہا کہ روس کا مقصد اپنے سرحدی علاقوں کی مستقبل میں مکمل سلامتی یقینی بنانا ہے اور وہ اس معاملے کو یوکرین کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کا موضوع نہیں بنانا چاہتا۔ انہوں نے اس کارروائی کو یوکرین کی جانب سے 2024 اور 2025 میں روس کے مغربی علاقے کرسک میں کی گئی پیش قدمی کے ردعمل کے طور پر پیش کیا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بتایا کہ مجوزہ سکیورٹی زون تقریباً 660 کلومیٹر، یعنی 410 میل، پر محیط ہوگا اور اس کا تقریباً 70 فیصد حصہ اس وقت روس کے کنٹرول میں ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ زون یوکرین کے اندر کتنی گہرائی تک پھیلے گا۔

پیوٹن پہلے بھی ایسے زون کی ضرورت کا ذکر کر چکے ہیں، لیکن اس مرتبہ انہوں نے اس کی ممکنہ وسعت اور اسے امن مذاکرات سے خارج رکھنے کے بارے میں زیادہ واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔

اس منصوبے کے لیے روس کو یوکرین کے سومی اور خارکیف علاقوں میں مزید پیش قدمی یا قبضہ برقرار رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ یہ دونوں علاقے ان خطوں میں شامل نہیں جنہیں روس نے 2022 میں جنگ شروع کرنے کے بعد اپنا حصہ قرار دیا تھا۔

پیوٹن نے فوجی حکام سے گفتگو میں پراعتماد اور سخت لہجہ اختیار کیا۔ ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی سرگرمیاں اہم مرحلے میں ہیں۔ رائٹرز کے مطابق روسی ڈیزل امریکا کو فروخت کرنے کے معاہدے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل ہوئی ہے، لیکن اس پیش رفت کے بعد ٹرمپ اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے تعلقات میں ایک بار پھر تناؤ بڑھا ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ دونیتسک کے علاقے میں یوکرین کے زیرِ کنٹرول صرف 10 فیصد سے کچھ زیادہ علاقہ باقی ہے، جبکہ زاپوریژیا کے 16.5 فیصد حصے پر بھی یوکرین کا کنٹرول برقرار ہے۔ یہ علاقے روس کے اہم فوجی اہداف میں شامل ہیں۔

پیوٹن نے یوکرینی فوجی، صنعتی اور لاجسٹکس اہداف پر روسی حملوں کی مؤثریت کی تعریف کی، تاہم کہا کہ روس کے فضائی دفاع کو مزید بہتر بنانے کی گنجائش موجود ہے۔